اسرائیل نے جوہری مذاکرات سبوتاژ کرنے کیلئے حملہ کیا، عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
تہران ( ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفیروں، سفارتی مشنز اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کو شخصیات کے تنازع میں یرغمال نہ بنایا جائے: مولانا فضل الرحمان
اسرائیلی حملوں کی تفصیلات
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے کسی بھی پیشگی اشتعال کے بغیر جمعے کی صبح سے ایران کے مختلف علاقوں پر حملے شروع کیے، جن میں تہران اور نطنز کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں عام شہری، خواتین، بچے، نیوکلیئر سائنسدان اور کئی فوجی کمانڈر جاں بحق ہوئے، جن میں سے بیشتر اپنے گھروں میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سمبڑیال کی عوام نے پی ٹی آئی کو آئینہ دکھا دیا، ہر طرف ’’گھڑی چور‘‘ کے نعرے گونجتے رہے: عظمیٰ بخاری
جوہری مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین
عراقچی نے واضح کیا کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور عمان کے دارالحکومت مسقط میں طے تھا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت نے جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی آخری حد بھی پار کر دی ہے اور اس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تینوں بہنیں کل بنی گالہ میں اہم پریس کانفرنس کریں گی، شیخ وقاص اکرم
عالمی برادری کا کردار
انہوں نے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی، جبکہ بعض یورپی ممالک پر تنقید کی جو ایران پر تنقید کر رہے ہیں۔ عراقچی نے کہا کہ ایران نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائیاں کی ہیں اور ان حملوں کا دائرہ قابض فلسطینی علاقوں میں صیہونی عسکری اور اقتصادی اہداف تک محدود رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور، نوجوان لڑکی کی تشدد زدہ جلی ہوئی جھاڑیوں سے برآمد، مقدمہ درج
اقتصادی مراکز پر حملے
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، لیکن جب تہران ریفائنری اور عسلویہ جیسے اہم اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، تو ایران نے بھی قابض علاقوں میں اقتصادی تنصیبات پر حملے کیے۔
یہ بھی پڑھیں: چلتے پھرتے سم نیٹ ورک تبدیل کروانے والے ہوجائیں ہوشیار،نیا فراڈ آگیا
خطے میں کشیدگی کا خدشہ
عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس کے حساس علاقے میں کشیدگی بڑھانا ایک خطرناک اقدام ہے، جو خطے اور دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ان اقدامات کی فوری اور سخت مذمت کرے۔
یہ بھی پڑھیں: سفیرپاکستان فیصل نیاز ترمذی کا پاکستانی اور بین الاقوامی فنکاروں پر مشتمل اتحاد ماڈرن آرٹ گیلری کا دورہ
امریکہ کا موقف
عراقچی نے اسرائیلی حملوں میں امریکہ کے ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ ایران کے پاس اس کے شواہد موجود ہیں، جن میں خطے میں امریکی اڈوں کی مدد بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اعلیٰ حکام کے بیانات بھی اس معاونت کی تائید کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر پنجاب اسمبلی کا 35واں اجلاس 28 نومبر کو طلب کر لیا
ایران کی جوہری پالیسی
انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کو وسعت نہیں دینا چاہتا، لیکن اگر مجبور کیا گیا تو دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا۔ عراقچی نے کہا کہ ایران کی جوہری پالیسی پرامن ہے اور ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کو ممنوع اور غیر قانونی سمجھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا سے سری لنکن فضائیہ کے کمانڈر کی ملاقات
مسقط میں مذاکرات
انہوں نے کہا کہ مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں ایران نے امریکہ کے سامنے ایک معقول تجویز رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اسرائیل نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے حملہ کیا، جیسا کہ ماضی میں نطنز پر تخریبی کارروائیاں اور سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ ہو گیا
امریکہ کے بیانات کی شفافیت
عراقچی نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ دو دنوں میں غیر رسمی پیغامات کے ذریعے کہا کہ اس کا حملے سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ایران ان بیانات پر یقین نہیں رکھتا۔ اگر امریکہ واقعی بے تعلق ہے تو اسے کھل کر اسرائیلی حملے کی مذمت کرنی چاہیے۔
خطاب کا اختتام
خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کا انحصار اس بات پر ہے کہ عالمی برادری صیہونی حکومت کے جرائم کے خلاف کھڑے ہو، بصورت دیگر بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔








