پنجاب حکومت کے ٹیکس فری بجٹ کے اہم نکات
پنجاب حکومت کا ترقیاتی بجٹ
لاہور (طیبہ بخاری سے) پنجاب حکومت نے آج صوبائی اسمبلی میں مالی سال 26-2025 کے لیے 5335 ارب روپے کا عوام دوست، ترقیاتی اور مستقبل بین بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا۔ اس بجٹ میں عوامی زندگی کے ہر شعبے میں بہتری اور تمام طبقات کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر کی برطرف کردہ امریکی جنرل جو چین پر جوہری حملے کی دھمکی دے چکے تھے
بجٹ کے اہم نکات
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے اپوزیشن کے شور شرابے میں اڑھائی گھنٹے سے زائد دورانیے کی تقریر میں صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے ساتھ 5,335 ارب روپے کا بجٹ پنجاب اسمبلی سے منظوری کے لیے پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز: برمنگھم میں آج ہونے والا پاک بھارت ٹاکرا منسوخ
ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص رقوم
پنجاب بجٹ 2025-26 میں 5,335 ارب روپے کے مجموعی بجٹ میں 1240 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے لیے 811.8 ارب، صحت کے لیے 630.5 ارب، لوکل گورنمنٹ کے لیے 411.1 ارب، انفراسٹرکچر کے لیے 335.5 ارب، پبلک سیفٹی کے لیے 299.3 ارب، اور زراعت کے لیے 129.8 ارب روپے منظور کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برٹش ہائی کمیشن ہیڈ آف لاہور آفس بین وارنگٹن کا محکمہ سوشل ویلفیئر کا دورہ ، صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ سے اہم ملاقات
تعلیم اور صحت کے پروگرامز
بجٹ میں سروس ڈلیوری کے لیے 679.8 ارب روپے مختص رکھے گئے ہیں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ تعلیم کے بجٹ میں 40 نئے تعلیمی منصوبے شامل کیے گئے ہیں جن میں 5 ''سکولز آف ایمنینس'' اور 2 نئی انجینئرنگ و ٹیکنالوجی یونیورسٹیاں قابل ذکر ہیں۔
صحت کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی جا رہی ہے۔ بجٹ میں 61.3 ارب روپے صحت کی سہولیات پر خرچ کیے جائیں گے، جس میں 23 ''سنٹر آف ایکسیلینس'' قائم کیے جائیں گے اور 25 اسپتالوں کی اپ گریڈیشن عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں دکاندار کے منہ میں موبائل کے بیٹری پھٹ گئی
سماجی تحفظ اور ترقیاتی اقدامات
سوشل پروٹیکشن کے تحت 150 ارب روپے کے منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں، جن میں احساس پروگرام، نشوونما، معذور افراد کی فلاح، اور 34 نئے اولڈ ایج ہومز شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات معاشرے کے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے ترتیب دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بی او پی نے انڈسٹری کا پہلا ڈیجیٹل بزنس لون حل متعارف کرا دیا! ”بی او پی ایس ایم ای ڈیجیٹل فنانس”
زرعی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی
زراعت، آبپاشی اور لائیوسٹاک میں جدیدیت لانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ راوی سائفن، واٹر کنزرویشن پراجیکٹس، ہائی ٹیک فارمنگ، اور 'سی ایم لائیوسٹاک کارڈ' کے پروگراموں سے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیں: برسوں سے زیرالتوا مقدمات ٹارگٹ ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات
ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومت نے 50 ملین درخت لگانے، 25 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز، اور 3 کلائمٹ آبزرویٹریز کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت 7، 6 اور 8 فروری کو منائی جائے گی
سیاحت اور ثقافت کی ترقی
سیاحت کے فروغ کے لیے چھانگا مانگا، اوچالی جھیل اور دیگر علاقوں میں ایکو ٹورازم کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں اور ثقافت کی ترقی کے لیے 4.5 ارب روپے کی رقوم مختص کی گئی ہیں۔ والڈ سٹی لاہور اور دیگر ثقافتی ورثے کی حفاظت کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت تمام معاملات پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے: رانا ثنا اللہ
وزیراعلیٰ کے ترقیاتی پروگرامز
وزیراعلیٰ کی جانب سے متعارف کروائے گئے 'چیف منسٹر آئی ٹی پارک'، 'پرواز کارڈ'، اور 'اسکلز فار سکسیس پروگرام' جیسے اقدامات نوجوانوں کی ترقی اور آئی ٹی صنعت کے فروغ کے لیے ہیں۔
حکومت کا عزم
پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق، یہ بجٹ ترقیاتی حکمت عملی کا مظہر ہے اور عام آدمی کو ریلیف دینے اور پائیدار معیشت کی بنیاد رکھنے کی عملی کوشش بھی ہے۔ حکومت کی ترجیح شفافیت، خدمت اور ہر شہری کے لیے مساوی ترقی ہے، جس سے پنجاب کو خوشحال، جدید اور خود کفیل صوبہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم بڑھتا ہے۔








