میرا یقین ہے آپ حق پر ہوں اور کسی کے حق کی خاطر ڈٹ جائیں تو اللہ مدد ضرور کرتا ہے، وقتی تکلیف اٹھا لو مگر ضمیر کے خلاف کام کبھی مت کرو
مصنف کی شناخت
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 200
یہ بھی پڑھیں: سونا پھر مہنگا ہو گیا، فی تولہ قیمت بلندترین سطح پر پہنچ گئی
کہانی کا آغاز
قصے میاں طارق کے؛
ایک روز ڈنگہ شہر سے تعلق رکھنے والے آئی جے آئی کے امیدوار اور سابق ایم پی اے میاں طارق محمود میرے دفتر آئے۔ ان کے حلقے کی 3 یونین کونسلز میرے علاقے میں فال کرتی تھیں۔ کھاریاں میں میرے کولیگ خاں صداقت صاحب سے ان کا اچھا تعلق تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کو ای سی او ٹورازم کیپٹل 2027 کا اعزاز مل گیا، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا پیغام تشکر
خاں صداقت کی یاد
(خاں صاحب ملازمت کے دوران ہی فوت ہو گئے۔ وہ فشار خون کے مریض تھے۔ اچھے ہنس مکھ انسان تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین) وہ میاں طارق کے ساتھ ان کے جلسوں میں جاتے۔ وہاں میاں طارق ترقیاتی گرانٹ کا اعلان کرتے اور خاں صداقت وہیں گرانٹ کا چیک جاری کر دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شاداب خان نے شاندار ریکارڈ اپنے نام کر لیا
غیر قانونی معاملات
یہ صریحاً غیر قانونی تھا اور کسی بھی افسر کے منصب کو زیب بھی نہیں دیتا تھا کہ وہ کسی سیاسی شخص کی خوشنودی کے لئے اس حد تک خود کو گرائے۔ ہر چیز اپنی حد میں ہی اچھی لگتی ہے۔ ایسی نوکری سے تو غلامی بہتر ہے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کا رزق اللہ نے لکھ رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے آئی آر یو کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات
توقعات اور انکار
بہرحال، وہ مجھ سے بھی ایسی ہی توقع اور خواہش لئے آئے تھے۔ میرے انکار کا انہوں نے برا منایا اور نتائج بھگتنے کی دھمکی دیتے چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ٹرین کے واش روم سے نامعلوم شخص کی پھندا لگی لاش برآمد
پرانا تجربہ
اس سے پہلے بھی وہ ایم پی اے تھے تو ملک مشتاق کو ایک غیر قانونی کام کرنے پر مجبور کرتے رہے ناکامی پر اس کا تبادلہ سرائے عالمگیر مرکز کی یونین کونسل ٹھل بھگول کر دیا جو آزاد کشمیر کے بارڈر پر تھی۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ میاں طارق کے ایک ووٹر سپورٹر جو ڈنمارک میں تھے کسی عورت کا طلاق سرٹیفیکیٹ جاری کروانا چاہتے تھے اور اس کے لئے مشتاق کو لاکھ روپیے اور اس کے ایک بچے کو ڈنمارک سیٹیل کروانے کی ذمہ داری لینے کو تیار تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کھلاڑیوں پر پاکستان کے خلاف بولنے کے لیے دباؤ ہوتا ہے: شاہد آفریدی
ضمیر کی آواز
مشتاق جیسے سفید پوش کے لئے ایسی بڑی آفر ٹھکرانا آسان نہ تھا۔ اس نے مجھ سے بات کی۔ میں نے اسے کہا؛ "مشتاق زندگی میں کوئی ایسا کام مت کرنا جس سے ضمیر عمر بھر ملامت کرتا رہے۔" مشتاق کے انکار پر اس پارٹی نے میاں طارق کے ذریعے مشتاق کو مجبور کرنے کی ناکام کوشش کی۔ سزا کے طور پر اس کا تبادلہ ٹھل بگول ہوا جو آزاد کشمیر کے بارڈر پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا حکومت پنجاب میڈیکل کالجز میں اعلان کردہ داخلہ پالیسی کا نوٹس لینے کا مطالبہ
پراجیکٹ منیجر کی مدد
اس زمانے میں وہاں جانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ میرے استاد اور باس (چوہدری ریاض) وہاں پراجیکٹ منیجر تھے۔ میں نے ان سے بات کی۔ انہوں نے جواب دیا؛ "ملک سے کہو آنے کی بھی ضرورت نہیں، تنخواہ گھر پہنچ جائے گی۔" ایسا ہی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں، صدر یواین جنرل اسمبلی
نئی معلومات
ایک روز مشتاق کے جاننے والے اس کی پرانی یونین کونسل خواص پور کسی کام سے آئے۔ مشتاق کی جگہ نئے سیکرٹری کو دیکھ کر انہیں صورت حال سے آگاہی ہوئی۔ وہ علاقے کے انتہائی بااثر لوگ میاں طارق کے تگڑے سپورٹر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں سفیر پاکستان کا دورہ کیلیفورنیا، بزنس لیڈرز اور کمیونٹی شخصیات سے ملاقات
معافی کی توقع
وہ مشتاق کے گھر آئے اور بولے؛ "ملک صاحب! میاں طارق آپ کے گھر آ کر کی گئی زیادتی کی معافی مانگے گا۔" مشتاق ظرف والا تھا کہنے لگا؛ "انہیں آپ اپنے گھر ہی بلا لیں۔" پھر میاں طارق کو ایسا ہی کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کا اعلان
ایمان کی طاقت
میرا یقین ہے کہ اگر آپ حق پر ہوں اور کسی کے حق کی خاطر ڈٹ جائیں تو اللہ آپ کی مدد ضرور کرتا ہے۔ وقتی تکلیف اٹھا لو مگر ضمیر کے خلاف کام کبھی مت کرو۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








