میرا یقین ہے آپ حق پر ہوں اور کسی کے حق کی خاطر ڈٹ جائیں تو اللہ مدد ضرور کرتا ہے، وقتی تکلیف اٹھا لو مگر ضمیر کے خلاف کام کبھی مت کرو

مصنف کی شناخت

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 200

یہ بھی پڑھیں: لاہور، ضلعی انتظامیہ نے پتنگ اور ڈور بنانے والوں کی رجسٹریشن فیس مقرر کر دی

کہانی کا آغاز

قصے میاں طارق کے؛
ایک روز ڈنگہ شہر سے تعلق رکھنے والے آئی جے آئی کے امیدوار اور سابق ایم پی اے میاں طارق محمود میرے دفتر آئے۔ ان کے حلقے کی 3 یونین کونسلز میرے علاقے میں فال کرتی تھیں۔ کھاریاں میں میرے کولیگ خاں صداقت صاحب سے ان کا اچھا تعلق تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بیس کروڑ کی گاڑی، 5 لاکھ کی گھڑی، منال خان کی دلچسپ ویڈیو وائرل

خاں صداقت کی یاد

(خاں صاحب ملازمت کے دوران ہی فوت ہو گئے۔ وہ فشار خون کے مریض تھے۔ اچھے ہنس مکھ انسان تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین) وہ میاں طارق کے ساتھ ان کے جلسوں میں جاتے۔ وہاں میاں طارق ترقیاتی گرانٹ کا اعلان کرتے اور خاں صداقت وہیں گرانٹ کا چیک جاری کر دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر پالیسی مذاکرات کل شروع، 23 مئی تک جاری رہیں گے

غیر قانونی معاملات

یہ صریحاً غیر قانونی تھا اور کسی بھی افسر کے منصب کو زیب بھی نہیں دیتا تھا کہ وہ کسی سیاسی شخص کی خوشنودی کے لئے اس حد تک خود کو گرائے۔ ہر چیز اپنی حد میں ہی اچھی لگتی ہے۔ ایسی نوکری سے تو غلامی بہتر ہے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کا رزق اللہ نے لکھ رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پبلک ٹوائلٹ میں چھوڑی گئی نومولود کو سینیٹری ورکرز نے بچالیا

توقعات اور انکار

بہرحال، وہ مجھ سے بھی ایسی ہی توقع اور خواہش لئے آئے تھے۔ میرے انکار کا انہوں نے برا منایا اور نتائج بھگتنے کی دھمکی دیتے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: غم پرانے ہیں اور سال نئے۔۔۔

پرانا تجربہ

اس سے پہلے بھی وہ ایم پی اے تھے تو ملک مشتاق کو ایک غیر قانونی کام کرنے پر مجبور کرتے رہے ناکامی پر اس کا تبادلہ سرائے عالمگیر مرکز کی یونین کونسل ٹھل بھگول کر دیا جو آزاد کشمیر کے بارڈر پر تھی۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ میاں طارق کے ایک ووٹر سپورٹر جو ڈنمارک میں تھے کسی عورت کا طلاق سرٹیفیکیٹ جاری کروانا چاہتے تھے اور اس کے لئے مشتاق کو لاکھ روپیے اور اس کے ایک بچے کو ڈنمارک سیٹیل کروانے کی ذمہ داری لینے کو تیار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے پاکستان میں 2 منصوبوں کے لیے 194 ملین ڈالر کی منظوری دیدی

ضمیر کی آواز

مشتاق جیسے سفید پوش کے لئے ایسی بڑی آفر ٹھکرانا آسان نہ تھا۔ اس نے مجھ سے بات کی۔ میں نے اسے کہا؛ "مشتاق زندگی میں کوئی ایسا کام مت کرنا جس سے ضمیر عمر بھر ملامت کرتا رہے۔" مشتاق کے انکار پر اس پارٹی نے میاں طارق کے ذریعے مشتاق کو مجبور کرنے کی ناکام کوشش کی۔ سزا کے طور پر اس کا تبادلہ ٹھل بگول ہوا جو آزاد کشمیر کے بارڈر پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دو بھائیوں کا قتل، 30 روپے کا جھگڑا یا قتل کی منظم سازش؟ صحافی امجد بخاری نے سوال اٹھا دیا

پراجیکٹ منیجر کی مدد

اس زمانے میں وہاں جانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ میرے استاد اور باس (چوہدری ریاض) وہاں پراجیکٹ منیجر تھے۔ میں نے ان سے بات کی۔ انہوں نے جواب دیا؛ "ملک سے کہو آنے کی بھی ضرورت نہیں، تنخواہ گھر پہنچ جائے گی۔" ایسا ہی ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا گیس کے کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

نئی معلومات

ایک روز مشتاق کے جاننے والے اس کی پرانی یونین کونسل خواص پور کسی کام سے آئے۔ مشتاق کی جگہ نئے سیکرٹری کو دیکھ کر انہیں صورت حال سے آگاہی ہوئی۔ وہ علاقے کے انتہائی بااثر لوگ میاں طارق کے تگڑے سپورٹر تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جے شاہ 35 سال کی عمر میں کرکٹ کی دنیا کا سب سے طاقتور آدمی کیسے بنے؟

معافی کی توقع

وہ مشتاق کے گھر آئے اور بولے؛ "ملک صاحب! میاں طارق آپ کے گھر آ کر کی گئی زیادتی کی معافی مانگے گا۔" مشتاق ظرف والا تھا کہنے لگا؛ "انہیں آپ اپنے گھر ہی بلا لیں۔" پھر میاں طارق کو ایسا ہی کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: بارش یا آزمائش۔۔۔یہ وقت احتیاط ، صبر اور ہمدردی کا ہے

ایمان کی طاقت

میرا یقین ہے کہ اگر آپ حق پر ہوں اور کسی کے حق کی خاطر ڈٹ جائیں تو اللہ آپ کی مدد ضرور کرتا ہے۔ وقتی تکلیف اٹھا لو مگر ضمیر کے خلاف کام کبھی مت کرو۔

(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...