دنیا میں حق و باطل کا معرکہ برپا ہے، اہل غزہ نے واضح لکیر کھینچ دی: سراج الحق
خطاب کا خلاصہ
لاہور( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شفاف انتخابات ملک کی ضرورت ہیں۔ دین کا لبادہ اوڑھ کر تشدد، دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلانے والے دین اور امت کے دشمن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر کی تقرری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیف وہپ عامر ڈوگر کو چوتھا خط ارسال کردیا
اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت
سابق امیر جماعت نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہر شعبے میں مداخلت کی ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، آئین و قانون کی بالادستی سے ہی ملک آگے بڑھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے بالائی علاقوں میں 8 سے 10 فروری تک بارش اور برفباری کا امکان، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا۔
حماس کی حیثیت
انہوں نے کہا حماس محض عسکری نہیں نظریاتی تحریک ہے، نظریاتی تحریک کا خاتمہ ممکن نہیں۔ دنیا میں حق و باطل کا معرکہ برپا ہے، اہل غزہ نے حق وباطل کی واضح لکیر کھینچ دی، ہم حق کے علمبردار ہیں اور اس کے لئے ہمیں جدوجہد کرنی ہے۔
نظریہ کی اہمیت
Siraj ul-Haq نے کہا کہ حضور ﷺ نے وقتی سیاست کی اور نہ قومیت اور ایشوز پر سیاست کی بلکہ نظریہ کی دعوت دی۔ جماعت اسلامی اسی نظریہ کی بنیاد پر دعوت اور سیاست جاری رکھے۔ اللہ ہمیں حق وباطل میں تمیز اور حلف رکنیت کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق دے۔








