اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا عندیہ
ایرانی ایٹمی سائنسدانوں کا نشانہ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہمیں کرنا چاہیے۔ ہم نے ایران کے سرکردہ ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر بھارت کے مظالم کا شکار،آزادی وقت کی ضرورت ہے: صدر آصف زرداری کا گلگت بلتستان کی ڈوگرہ راج سے آزادی کی تقریب سے خطاب
خامنی کا قتل اور تنازع کا خاتمہ
نیتن یاہو نے بیان دیا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیا جائے تو یہ اقدام ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کا "خاتمہ" ثابت ہوگا، نہ کہ اس میں شدت کا باعث۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد پریس کلب سیالکوٹ کا صدر منتخب ہونے پر محمد شہباز باجوہ کو مبارک باد ، پاکستان جرنلسٹس فورم متحدہ عرب امارات کا نیک تمناؤں کا اظہار
ایرانی مذاکرات کی پیشکش کا مسترد کرنا
انہوں نے ایران کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران صرف جھوٹے وعدوں اور دھوکہ دہی کے ذریعے امریکہ کو الجھانا چاہتا ہے۔ ہمارے پاس اس بارے میں مصدقہ انٹیلیجنس موجود ہے کہ ایران صرف وقت ضائع کر رہا ہے۔
خطرات کی نشاندہی
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ عرب ممالک، یورپ اور امریکہ کے لیے بھی ایک حقیقی خطرہ ہے۔








