اگر امریکہ جنگ میں شامل ہوا تو خلیج کا کیا حشر ہوگا؟ کنگز کالج لندن کے پروفیسر نے منظر کشی کردی
کنگز کالج لندن کے پروفیسر کا انتباہ
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آندریاس کریگ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ براہ راست ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوا تو خلیجی خطے میں شدید نوعیت کی کشیدگی بھڑک سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فتح اللہ گولن کی وفات: ترکی کا طاقتور شخصیت جس پر فوج کو صدر اردوغان کے خلاف بغاوت کیلئے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا
امریکی مداخلت کے ممکنہ اثرات
انہوں نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اگر امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوتا ہے تو خلیج میں حملوں اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کارروائیوں میں زبردست اضافہ ہوگا، جن کا ہدف شپنگ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے ہوں گے۔" کریگ نے یہ بھی کہا کہ ایران ممکنہ طور پر خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں آٹا مزید مہنگا، 20 کلو کا تھیلا 1900 روپے کا ہو گیا
دردناک مقاصد کے لئے جنگ میں شمولیت
ان کے مطابق امریکہ صرف اسی صورت اس جنگ میں داخل ہوگا جب وہ "رجیم چینج" جیسے مہنگے اور خطرناک مقاصد کے لیے تیار ہوگا، جو کہ صدر ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے کہا "فی الحال ایسا امکان کم ہے کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ سے انخلا کے ٹرمپ کے بیانیے کو نقصان پہنچے گا۔"
سفارتی حل کی امید
تاہم کریگ کا ماننا ہے کہ سفارتی حل کا امکان اب بھی موجود ہے بشرطیکہ صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعلیٰ نیتن یاہو کو روکیں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے حملے بند کرے اور مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ انہوں نے کہا، "ایران کو ایک 'فتح کا بیانیہ' بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے اور پھر اسے امریکہ پر اتنا اعتماد کرنا ہوگا کہ وہ نیتن یاہو کو قابو میں رکھ سکے۔"








