پشاور یونیورسٹی کے رہائشی کوارٹر سے 2 خواتین کی نعشیں برآمد
پشاور یونیورسٹی میں دریافت ہونے والی نعشیں
پشاور (ویب ڈیسک) — پشاور یونیورسٹی کے ایک رہائشی کوارٹر سے دو خواتین کی قدیم نعشیں برآمد ہوئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ترجیحات میں صحافی برادری سر فہرست ہے: عظمیٰ بخاری کی پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد
مقتولین کی شناخت
پولیس کے مطابق، دونوں خواتین کا تعلق مسیحی برادری سے ہے۔ ابتدائی شناخت کے نتیجے میں ایک خاتون کی شناخت مسماۃ ش، زوجہ وسیم گل جبکہ دوسری کی شناخت مسماۃ ک، دختر یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔ نعشیں کئی روز پرانی لگتی ہیں اور ان پر تشدد کے آثار موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا ملک میں سرمایہ کاری کرنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو سول ایوارڈ دینے کا اعلان
پولیس کی کارروائی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ کیمپس، فہیم شاہ پولیس نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں طلاق کی شرح کس ملک میں سب سے زیادہ ہے، حیران کن انکشاف
تحقیقات کا آغاز
پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل ڈیٹا اور دیگر اہم شواہد کی روشنی میں مختلف پہلوؤں سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قتل کس نے اور کیوں کیا۔
پوسٹ مارٹم کی کارروائی
مزید پیش رفت کے لیے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔








