اسرائیلی حملے سست نہیں ہوں گے: ٹرمپ، جلتی پر تیل نہ ڈالیں: چین
چین اور امریکہ کے بیانات
واشنگٹن، بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین اور امریکہ کی قیادت کے نئے بیانات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر حملے سست نہیں ہوں گے، دو دن میں سب پتہ چل جائے گا، جبکہ چین نے اس بیان کو جلتی پر تیل ڈالنے کا مترادف قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 4700 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو گئی
چینی وزیر خارجہ کا ردعمل
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق، چینی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو جلتی پر تیل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملوں سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کبوتروں کے ساتھ ایل ای ڈی لائٹس لگا کر اڑانے والے 2 افراد بھارتی پولیس نے گرفتار کر لیے
امن کے لیے سفارتی راستے کی اہمیت
چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دھمکیوں سے مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوسکتا اور صورتحال کو پرسکون بنانے کے لیے سفارتی راستہ ہی واحد حل ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بیجنگ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر بنانے والوں کے لیے خوشخبری، ٹائلز، سینٹری پر حیرت انگیز ڈسکاؤنٹ آفر فیصل سنز نے متعارف کروا دی
امریکی صدر کی بیانات
قبل ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر دباؤ میں مزید شدت لانے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کا حقیقی خاتمہ چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 30 سال بعد بچھڑے ہوئے بیٹے کی گھر واپسی، لیکن کچھ ہی روز میں ایسا انکشاف کہ پورے گھر میں خوف کی لہر دوڑ گئی
ٹرمپ کی دو ٹوک باتیں
صدر ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سست نہیں ہوں گے، آپ کو اگلے دو دنوں میں سب پتہ چل جائے گا، کسی نے ابھی تک سست روی نہیں دکھائی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے خاتون ڈاکٹر کا نقاب اتارنے کا معاملہ، پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور
ایران کو دی جانے والی دھمکیاں
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو ہم بہت سخت جواب دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس آیا تو وہ وٹکوف یا جے ڈی وینس کو ایران بات چیت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔
جنگ بندی کی تلاش
ٹرمپ نے کہا کہ میں جنگ بندی سے بہتر حل کی تلاش میں ہوں، ایران بات کرنا چاہتا ہے تو اسے پتا ہے مجھ سے کیسے بات کرنی ہے۔ تہران سے انخلا کی تنبیہ شہریوں کو ان کے تحفظ کے لیے کی تھی۔








