بیرسٹر سیف کے بیان پر عظمیٰ بخاری کا رد عمل آ گیا
پنجاب حکومت کی صحت اور تعلیم کے لیے بجٹ مختص
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے برسٹر سیف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے جتنا بجٹ صرف صحت اور تعلیم کے لیے مختص کیا ہے، اتنا تو خیبرپختونخوا حکومت کا مجموعی بجٹ بھی نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: اگلے ماہ نوازشریف سرگودھا میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں، مریم نواز
نئی طبی سہولیات کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جو کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں ایک انقلابی قدم ہے۔ فیلڈ ہسپتال، کلینک آن ویلز اور مریم نواز ہیلتھ کلینکس جیسی سہولیات کامیابی سے عوام کی خدمت کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا
مہنگی بیماریوں کی ادویات کی فراہمی
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے کینسر، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی جیسی مہنگی اور جان لیوا بیماریوں کی ادویات مریضوں کے گھروں تک پہنچا کر خدمت کی نئی مثال قائم کی ہے۔ آج خیبرپختونخوا سے ہزاروں مریض پنجاب کے ہسپتالوں میں علاج کروانے آ رہے ہیں، کیونکہ پنجاب کا صحت کا نظام قابلِ اعتماد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: جہیز کے معاملے پر سسرالیوں نے خاتون کو بیٹے کے سامنے زندہ جلادیا
پنجاب کا کھلا دروازہ
پنجاب کے دروازے ہر صوبے کے عوام کے لیے کھلے ہیں۔ بیرسٹر سیف کی نوکری صرف پنجاب پر تنقید کرنا ہے، یہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی عوام کو نہیں بتاتے۔ 12 سال سے ایک ہی صوبے میں حکومت کے باوجود آپ آج بھی پنجاب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امیر بالاج قتل کیس کی درج ہونے والی تھانہ چونگ کی ایف آئی آر کی فائل سی سی ڈی کے حوالے کر دی گئی
وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر سوالات
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بیرسٹر سیف نے ڈیڑھ سال میں ایک مرتبہ بھی قوم کو اپنے جعلی ’’سلطان راہی‘‘ وزیراعلیٰ کی کارکردگی سے آگاہ کیا؟ مریم نواز آج عوامی خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔ پنجاب کا بجٹ صرف کاغذوں تک محدود نہیں، بلکہ میدانِ عمل میں اس کے نتائج نظر آ رہے ہیں۔
سیاسی فائدہ یا عوام کی فلاح؟
آخر میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ صرف آپس میں بانٹنے اور سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ پنجاب کا ہر روپیہ عوام کی فلاح پر خرچ ہو رہا ہے۔








