پی ٹی آئی کا مارچ، 9 مئی کا حملہ غلط تھا، عمران خان کی بری چیزیں بھی ہیں :حمزہ علی عباسی
حمزہ علی عباسی کا اعتراف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن اور اداکار حمزہ علی عباسی نے اعتراف کیا ہے کہ عمران خان کے معاملے پر وہ غلط تھے، پی ٹی آئی کی جانب سے 2014 میں کیا گیا مارچ اور 9 مئی 2022 کو فوج پر کیے گئے حملے غلط تھے۔
یہ بھی پڑھیں: داعش خراسان کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز میں ملوث دہشتگرد مارا گیا
پوڈکاسٹ میں گفتگو
ڈان کے مطابق حمزہ علی عباسی نے حال ہی میں منصور علی خان کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پہلگام تنازع بھارت کی سالمیت کے بجائے نریندرا مودی کی بقا کی جنگ تھا؟
تحریک انصاف کے قریب آنا
پروگرام کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ 2014 کے قریب پی ٹی آئی کے قریب ہوئے، ان کا ایک مقصد عمران خان کا وزیر اعظم بننے تک ساتھ دینا بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حریم سہیل نے سہیلی کے دوست سے شادی کا انکشاف کردیا
عمران خان کے ساتھ ملاقاتیں
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی عمران خان سے متعدد ملاقاتیں رہیں، وہ انہیں ملاقات کے لیے مسلسل بلاتے بھی تھے لیکن وہ ان سے مشورے نہیں مانگتے تھے۔
اداکار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی 2018 کے بعد بننے والی حکومت کے بعد ملکی حالات بہتر بھی ہوئے لیکن کچھ چیزیں غلط بھی ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف آج تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کا امکان
عدم اعتماد کی تحریک کے بعد کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ خصوصی طور پر اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آنے کے بعد جو چیزیں ہوئیں، وہ غلط تھیں، تمام اسٹیک ہولڈرز نے غلطیاں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ میں نیشنل ریسلنگ چیمپئن شپ کے دوران پہلوان آپس میں لڑ پڑے
9 مئی کا واقعہ
پی ٹی آئی اور عمران خان کی غلطیوں پر بات کرتے ہوئے حمزہ علی عباسی نے 9 مئی 2022 کو فوجی چھاؤنیوں سمیت دیگر فوجی عمارتوں پر ہونے والے حملوں کو بھی غلط قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ بھی غلط تھا، اس سے قبل 2014 میں پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا مارچ بھی غلط تھا، دیگر مارچ اور مظاہرے بھی غلط تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق آسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
مذاکرات کا مطالبہ
حمزہ علی عباسی نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن اب تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے عمران خان اور فوج سمیت ن لیگ کو مخاطب ہوتے ہوئے سب سے درخواست کی کہ مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کو حل کرکے ملکی بہتری کا سوچا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد میں پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکا، 5 افراد جان بحق اور 8 زخمی ہو گئے
مستقبل کی فکر
انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست کوئی قبول نہیں کرے گا لیکن پھر بھی وہ ہر کسی سے درخواست کرتے ہیں کہ غلطیوں کو بھلا کر مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نے سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دیدی
طاقت اور انتشار کا استعمال
حمزہ علی عباسی کے مطابق طاقت اور انتشار کا استعمال بالکل نہیں کیا جانا چاہیے، اس کے نتائج غلط نکلتے ہیں، مذاکرات ہی واحد اور اچھا حل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم ایسے انتخابات میں فتح حاصل نہیں کر سکے جو شروع سے ہی منصفانہ نہیں تھے: راہول گاندھی
اسٹیبلشمنٹ کا کردار
اسی معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی پاکستانی سیاست میں مداخلت ڈھکی چھپی بات نہیں اور یہ کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے پاس طاقت نہیں رہتی تو اس ملک کے تمام لوگ چنگیز خان بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پھر ملک کا نہ جانے کیا ہوگا؟
عوام کی رائے
ان کا کہنا تھا کہ فوج بھی ہماری ہی ہے، ہم سب پاکستان ہیں، اس لیے فوج اور عمران خان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔
حمزہ علی عباسی نے کہا کہ اگر عمران خان مسلسل جیل میں رہتے ہیں اور طبعی طور پر انہیں کچھ ہوجاتا ہے تو نہ جانے کیا ہوگا؟ ابھی بھی عوام میں اس بات کا غصہ بڑھ رہا ہے کہ ان کی رائے اور سیاسی خواہشات کو دبایا جا رہا ہے۔








