سپین کا یورپی یونین سے اسرائیل پر اسلحے کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ
سپین کے وزیر خارجہ کا مطالبہ
میڈرڈ (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپین کے وزیر خارجہ جوزے مانوئل الباریس نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں غیرقانونی رہائش پذیر مزید 1062 افغان شہریوں کو اپنے وطن واپس بھیج دیا گیا
یورپی یونین کا کردار
انادولو ایجنسی کے مطابق الباریس نے کہا "یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، ہمیں اسرائیل پر اسلحے کی پابندی عائد کرنی چاہیے، جنگ جاری رہتے ہوئے اسے ہتھیار نہیں بیچنے چاہییں۔"
یہ بھی پڑھیں: آج 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور ہو جائے گی: وزیر دفاع خواجہ آصف
تجزیہ کاروں کی رائے
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک جرأت مندانہ موقف ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ خود سپین نے 2024 میں اسرائیل کو محض 17 لاکھ یورو کا اسلحہ فروخت کیا تھا، جو اسرائیل کی کل اسلحہ درآمدات کا صرف 0.01 فیصد بنتا ہے۔
ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات
سپینی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ موجودہ تنازع خطے کے استحکام کے لیے "سنگین خطرہ" بن چکا ہے۔








