ماہرین نے جگر کی پیوندکاری کے بعد خطرات کو جانچنے کے لیے بلڈ ٹیسٹ تیار کرلیا
نئی طبی تحقیق
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) - امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جگر کی پیوندکاری کے بعد ہونے والی سنگین پیچیدگیوں کا بروقت پتہ لگانے کے لیے ایک انتہائی آسان بلڈ ٹیسٹ کا طریقہ تیار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 213 ارب روپے کے میونسپل ٹیکس کا معاملہ، رؤف کلاسرا کے بیان پر احسن اقبال کی وضاحت آگئی
تحقیقات کی تفصیلات
ڈان نے ایک طبی ویب سائٹ کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ماہرین کی ٹیم نے سات سال کی تحقیق اور محنت کے بعد اس بلڈ ٹیسٹ کو تیار کیا ہے، جس کے ذریعے لیور ٹرانسپلانٹ کے بعد ہونے والی پیچیدگیوں کا پتہ لگایا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی 30-2025 کا باضابطہ اجرا کر دیا
روایتی ٹیسٹ کے نقصانات
جگر کی پیوندکاری کے بعد مریض میں ہونے والی سنگین پیچیدگیوں کا پتہ لگانے کے لیے اس وقت بائیوپسی سمیت دیگر مہنگے ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق مستقبل میں صرف ایک معمولی بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے یہ مسائل جانچے جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئر پورٹ آنے والے شہریوں پر نئی پابندی لگانے کا فیصلہ
نئے بلڈ ٹیسٹ کی خصوصیات
یہ نیا تیار کردہ بلڈ ٹیسٹ خون کے ڈی این اے میں موجود ان سنگین وائرسز کی نشاندہی کرتا ہے، جو پیوندکاری کے بعد اعضا کے فیل ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ یہ بھی پتہ لگائے گا کہ وائرس یا خرابی مریض کے جسم میں ہے یا پیوند کیے گئے جگر کے ٹکڑے میں۔
یہ بھی پڑھیں: عدلیہ کو سیاسی اور حکومتی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے منظور نظر اور سیاسی جماعتوں کے وکلاء کی بطور جج تعیناتی کے تمام دروازے بند کرنا انتہائی ضروری ہے
علاج میں بہتری
ماہرین کے مطابق، خون کے ٹیسٹ سے اصل سبب اور وائرسز کا پتہ لگنے کے بعد، جگر کی پیوندکاری کے بعد متاثر ہونے والے مریض کا جلد اور بہتر علاج کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں: دہشتگردوں کے حملے، پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشتگرد جہنم واصل
آزمائش کا مراحل
یہ بلڈ ٹیسٹ جگر کی پیوندکاری سے قبل نہیں بلکہ پیوندکاری کے بعد کیا جائے گا۔ ماہرین نے سات سال میں اس طریقے کی ترقی کے بعد اب اس کی بڑے پیمانے پر آزمائش کے لیے اجازت ناموں اور فنڈنگ کا انتظار شروع کر دیا ہے۔
مستقبل کی توقعات
خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند سال میں، جگر کی پیوندکاری کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کی جانچ کے لیے یہ آسان اور سستا بلڈ ٹیسٹ عام مریضوں کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔








