ضم شدہ اضلاع کے 267 ارب واجب الادا، وفاق فنڈز منتقل کرے: بیرسٹر سیف
پشاور میں معلوماتی مشیر کا وفاقی حکومت سے مطالبہ
خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ضم شدہ اضلاع کے لیے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کے تحت مختص کردہ 350 ارب روپے میں سے باقی ماندہ 267 ارب روپے فوری طور پر خیبرپختونخوا کو منتقل کرے۔
یہ بھی پڑھیں: اریج فاطمہ نے کینسر کی تشخیص پر خاموشی توڑ دی
وفاق پر تاخیری حربوں کا الزام
نجی ٹی وی دنیانیوزکے مطابق، انہوں نے وفاق پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے جس کے باعث قبائلی اضلاع کی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے 783ویں سالانہ عرس کے انتظامات مکمل، خصوصی بریفنگ
مالی سال 25-2024 کے فنڈز کی کمی
ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ رواں مالی سال 25-2024 کے دوران وفاق نے ضم اضلاع کے لیے 350 ارب روپے مختص کیے تھے، تاہم گزشتہ 10 ماہ میں صرف 83 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ 267 ارب روپے تاحال واجب الادا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل واوڈا کسی خاص پیغام کے ساتھ نہیں آئے تھے، مولانا فضل الرحمان کا ملاقات پر رد عمل
ترقی کی ذمہ داری اور وفاق کی غیر سنجیدگی
انہوں نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے لیکن وفاق کی غیر سنجیدگی اس نازک قومی معاملے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس چھپانے اور ڈیجیٹل نظام نہ اپنانے پر ’کابل ریسٹورنٹ‘ کا اوپن ایریا سیل کر دیا گیا
انضمام کا اصل مقصد
ڈاکٹر سیف کا کہنا تھا کہ انضمام کا اصل مقصد قبائلی علاقوں کو قومی ترقی کا حصہ بنانا تھا مگر وفاق کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی سے یہ مقصد شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے قواعد کی کمی کا ہمیں بہت نقصان ہوا، بہترین جمہوریتوں میں سزا اور جزا کا نظام موجود ہے: عطاءاللہ تارڑ
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترقی کی اہمیت
انہوں نے خبردار کیا کہ ضم شدہ اضلاع کے فنڈز روکنا درحقیقت دہشت گردی کو فروغ دینے کے مترادف ہے، جب تک ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع نہیں ہوتے تب تک دہشت گردی کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
فوری اقدامات کا مطالبہ
ڈاکٹر سیف نے زور دیا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ کے تحت مختص تمام فنڈز فوری طور پر خیبرپختونخوا حکومت کو منتقل کرے تاکہ قبائلی عوام کو بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔








