مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بیٹے اسجد محمود پر حملے کا انکشاف
مولانا عبد الغفور حیدری کا بیان
ا سلام آ باد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری کا کہنا ہے کہ 10 جون کو مولانا فضل الرحمان کے سب سے چھوٹے فرزند پر حملہ ہوا، خوش قسمتی سے واقعے میں اسجد محمود کی جان محفوظ رہی۔
یہ بھی پڑھیں: قونصل جنرل آف ٹرکیہ کی صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ سے اہم ملاقات،سیاسی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال
خیبر پختونخوا کے حالات
نجی ٹی وی سماء کے مطابق سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں، قومی شاہراہوں سے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے، ریاست کے اندر ریاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میئر لندن صادق خان کو میرے کہنے پر شاہی ضیافت میں مدعو نہیں کیا گیا: ٹرمپ کا دعویٰ
علماء کی حفاظت کا سوال
مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ ہمارا جرم کیا ہے؟ مولانا فضل الرحمان پر 3 بار خودکش حملے ہوئے، میرے لوگ شہید کیے جا رہے ہیں، بلوچستان میں میرا ایک نوجوان شہید کیا گیا، ہرجگہ علماء نشانے پر ہیں، میں کس کس کا نام لوں؟
بجٹ میں ٹیکس کی بھرمار
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں ٹیکس کی بھرمار ہے، ریاست بدلے میں لوگوں کی حفاظت کرے، سندھ کے ڈاکوؤں کو ابھی تک قابو نہیں کیا جا سکا۔ یہ حکومت کس درد کی دوا ہے؟ اسجد محمود کے حملہ آوروں کے بارے میں سخت رولنگ دی جائے، پارلیمنٹ ہماری دادرسی نہیں کرے گی تو ہم کہاں جائیں گے۔








