سینیٹ اجلاس میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت
سینیٹ کے اجلاس میں اسرائیل کے حملوں کی مذمت
ا سلام آ باد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کے اجلاس میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ قائد ایوان اسحٰق ڈار نے کہا کہ 21 مسلم ممالک نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے، کیونکہ ایران کی سلامتی خطے اور عالم اسلام کے امن سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟ الجزیرہ کا ایسا تجزیہ کہ بھارتیوں کی نیندیں اڑ جائیں
مشترکہ مؤقف کا اعلان
ڈان نیوز کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اسحٰق ڈار نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر اسرائیل کے حملوں کی 21 مسلم ممالک نے شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور بڑی کامیابی۔۔۔امریکی قائمقام کوآرڈینیٹر برائے انسداد دہشتگردی گریگوری ڈی لوگرفو نے بھی پاکستان کے اقدامات کی تعریف کر دی
ایران کی حمایت میں اعلامیہ
انہوں نے بتایا کہ مسلم ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ایران کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے۔۔۔
اسرائیلی جارحیت کے اثرات
اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت سے پورے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور اس کے سنگین عالمی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا نے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹرز کی رائے
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اگر ایران کے بعد پاکستان کی باری آئی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ایران صرف اپنی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی جنگ لڑ رہا ہے، اب بیانات کے بجائے عملی مدد کرنی ہوگی۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر نواز شریف ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ نہ کرتے تو آج پاکستان مشکلات میں ہوتا۔ سینیٹر افنان اللہ نے پاکستان کی ایٹمی طاقت کو مسلم دنیا کا دفاعی ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مسلم ممالک کو تباہ کرنا چاہتا ہے جو کبھی ہونے نہیں دیں گے۔








