پاکستان ایران کو زیادہ بہتر جانتا ہے، فردو نیوکلیئر فیسلٹی تباہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، صدر ٹرمپ کی پاکستانی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد گفتگو
صدر ٹرمپ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کا بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے مدعو کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ابھی تک ایران جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور اس حوالے سے ان کا خیال ہے کہ دنیا میں بہت زیادہ تباہی ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی کال پر ادارے کریک ڈاؤن کر سکتے ہیں: رانا ثنا اللہ
پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت
صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو سمارٹ لوگوں نے مل کر پاکستان اور بھارت کے مئی کے تنازعے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا نیوکلیئر تنازعے میں تبدیل ہونے کا خطرہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آج کن علاقوں میں بارش اور برفباری ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا۔
ایران کے ساتھ بات چیت کی تفصیلات
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ایران کے بارے میں بات ہوئی، صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر گفتگو کی ہے۔ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ عاصم منیر ایران کو زیادہ بہتر جانتے ہیں اور وہ اس بارے میں خوش نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے شملہ معاہدہ ختم ہوگیا، کنٹرول لائن اب سیز فائر لائن ہے، خواجہ آصف
جنگوں کی تباہی پر اثرات
صدر ٹرمپ نے جنگوں کے خطرناک اثرات پر بھی بات کی، اور کہا کہ وہ ایران کے تنازعے میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نیوکلیئر ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو یہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا۔ میں نے 20 سال سے کہہ رکھا ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: کیسی بھول ہوئی ظالم سے جس نے ہمیں للکارا ہے۔۔۔
مذاکرات کے دروازے
ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا انہوں نے مذاکرات کے دروازے بند کر دیے ہیں، صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہوں نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔ ایرانی حکام اپنے ملک سے باہر نہیں نکل پا رہے، کیونکہ بمپر گرتے ہیں۔
فردو نیوکلیئر فیسلٹی پر موقف
فردو نیوکلیئر فیسلٹی کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ یہ کرنے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس بہترین ملٹری ہتھیار ہیں، لیکن ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔








