ایران اسرائیل جنگ: یورپی وزرائے خارجہ کا تہران کیساتھ جوہری مذاکرات کا فیصلہ
ایران اور اسرائیل کی کشیدگی
جنیوا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یورپی وزرائے خارجہ نے تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر سیاست کرنی ہے تو ہم تیار ہیں لیکن پہلے 88 لاشوں کا جواب دیا جائے، کامران ٹیسوری
مذاکرات کا آغاز
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق، یورپی وزرائے خارجہ نے ایران سے جوہری مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان مذاکرات کا آغاز جمعہ کو جنیوا میں ہوگا، جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی ہنگامی تیاری
امریکی رضا مندی
خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ان مذاکرات میں امریکی رضا مندی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی مذاکرات نہیں: پاکستان نے افغانستان کی مذاکرات کی تجویز مسترد کر دی
یورپی وزرائے خارجہ کی ملاقات
یورپی وزرائے خارجہ پہلے یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس سے جرمنی کے مستقل مشن پر ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شپنگ انڈسٹری کی درخواستوں کے باوجود امریکا نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے سےمنع کردیا
اسرائیل کا مؤقف اور ایران کا جواب
جرمن سفارتی ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا مقصد ایران سے سخت یقین دہانی حاصل کرنا ہے کہ وہ جوہری توانائی کا استعمال صرف پرامن مقاصد کے لیے کرے گا۔ دوسری طرف، اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ تہران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور جھوٹ، ارنب گوسوامی نے بے بنیاد دعویٰ کیا،سچے ثابت ہوئے تو 1 کروڑ روپے دینے کو تیار ہوں”:حامد میر کا کھلا چیلنج
میزائل اور ڈرون حملے
ایران نے آپریشن "وعدہ صادق سوم" کے تحت اسرائیل پر 11 بار میزائل اور ڈرون داغ دیئے۔ اس بار "سیجل" میزائل کا پہلی بار استعمال کیا گیا ہے, جو اپنی نوعیت کا غیر معمولی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رافیل طیارے گروانے اور پائلٹس کو چائے پلوانے کے بعد ہی مودی سرکار کو عقل آئی : حنا پرویز بٹ
ایران کی دھمکیاں
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے خلاف تازہ میزائل حملے میں پہلی بار دور مار کے "سجیل" بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے بدعنوان اور کرپٹ افسران کو ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ
اسرائیلی حملے کی توثیق
اسرائیلی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ اب میزائل سسٹم اور انہیں ذخیرہ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار اور میزبان ساحر لودھی کی وائرل ویڈیوز پر اداکار یاسر نواز کی جانب سے ٹرولنگ
ایران کی سائبر کارروائیاں
ایران کی حکومت نے اسرائیل کی جانب سے سائبر حملوں کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب صحافیوں کے لیے اپنے گھر کی تعمیر میں بھرپور معاونت کرے گی، وزیراعلیٰ مریم نواز کی لاہور پریس کلب کی نومنتخب قیادت کو مبارکباد
امریکی صدر کی منصوبہ بندی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، مگر حتمی حکم ابھی جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم کا بہت بڑا فین ہوں، سری لنکن بلے باز سدھیرا سماراوکرما
ایران کا دفاعی مؤقف
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتا ہے تو ان کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قاسم رونجھو آپ بیتی سنانا چاہتے تھے، حکومت نے شرمندگی سے بچنے کیلئے کورم توڑا، اختر مینگل
موجودہ صورت حال
اتوار کے روز اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں پر راکٹ داغے، جن میں مزید ایٹمی سائنسدان بھی جاں بحق ہوئے۔
اسرائیل کے خوف کی وجوہات
اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے مزید بیلسٹک میزائل حملوں کے خدشے کا اظہار کیا، جبکہ ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی اسرائیلی ڈرونز کو گرا دیا گیا۔








