ایران اسرائیل جنگ: یورپی وزرائے خارجہ کا تہران کیساتھ جوہری مذاکرات کا فیصلہ
ایران اور اسرائیل کی کشیدگی
جنیوا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یورپی وزرائے خارجہ نے تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بڑا ٹیکس فراڈ نیٹ ورک کراچی پورٹ پر پکڑا گیا
مذاکرات کا آغاز
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق، یورپی وزرائے خارجہ نے ایران سے جوہری مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان مذاکرات کا آغاز جمعہ کو جنیوا میں ہوگا، جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ ہندوستان اور ان کے سہولت کاروں کو کہیں چھپنے نہیں دیا جائے گا: محسن نقوی
امریکی رضا مندی
خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ان مذاکرات میں امریکی رضا مندی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے کا فیصلہ، ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے اس بار بڑا زبردست کام کیا ہے، سابق انگلش کرکٹر کا بیان
یورپی وزرائے خارجہ کی ملاقات
یورپی وزرائے خارجہ پہلے یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس سے جرمنی کے مستقل مشن پر ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ، 4 خواج ہلاک، چار بہادر جوان وطن پر قربان
اسرائیل کا مؤقف اور ایران کا جواب
جرمن سفارتی ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا مقصد ایران سے سخت یقین دہانی حاصل کرنا ہے کہ وہ جوہری توانائی کا استعمال صرف پرامن مقاصد کے لیے کرے گا۔ دوسری طرف، اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ تہران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ہومیراکام غریبوں کی حمایت کرنا …… میرےپسندیدہ اشعار میں شامل ہے: مریم نواز
میزائل اور ڈرون حملے
ایران نے آپریشن "وعدہ صادق سوم" کے تحت اسرائیل پر 11 بار میزائل اور ڈرون داغ دیئے۔ اس بار "سیجل" میزائل کا پہلی بار استعمال کیا گیا ہے, جو اپنی نوعیت کا غیر معمولی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں 130ارب روپے شارٹ فال کا سامنا
ایران کی دھمکیاں
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے خلاف تازہ میزائل حملے میں پہلی بار دور مار کے "سجیل" بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں : وزیر اعظم
اسرائیلی حملے کی توثیق
اسرائیلی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ اب میزائل سسٹم اور انہیں ذخیرہ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر غور کی پیشکش پر شکر گزار ہیں؛ امریکا
ایران کی سائبر کارروائیاں
ایران کی حکومت نے اسرائیل کی جانب سے سائبر حملوں کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر بیوی نے آشناکے ساتھ شرمناک حالت میں پکڑے جانے کے بعد شوہر کے ساتھ کیا کیا؟ افسوسناک انکشاف
امریکی صدر کی منصوبہ بندی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، مگر حتمی حکم ابھی جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی مسافر کھانا، پانی یا چہل قدمی کے لیے نیچے اترا ہو اور گاڑی کی روانگی تک اپنے ٹھکانے پر واپس نہ پہنچ سکا ہو تو زنجیر کھینچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
ایران کا دفاعی مؤقف
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتا ہے تو ان کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے باضابطہ معافی مانگ لی
موجودہ صورت حال
اتوار کے روز اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں پر راکٹ داغے، جن میں مزید ایٹمی سائنسدان بھی جاں بحق ہوئے۔
اسرائیل کے خوف کی وجوہات
اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے مزید بیلسٹک میزائل حملوں کے خدشے کا اظہار کیا، جبکہ ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی اسرائیلی ڈرونز کو گرا دیا گیا۔








