ایران اسرائیل جنگ: یورپی وزرائے خارجہ کا تہران کیساتھ جوہری مذاکرات کا فیصلہ
ایران اور اسرائیل کی کشیدگی
جنیوا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ یورپی وزرائے خارجہ نے تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالیوڈ اداکارہ 60 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں
مذاکرات کا آغاز
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق، یورپی وزرائے خارجہ نے ایران سے جوہری مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان مذاکرات کا آغاز جمعہ کو جنیوا میں ہوگا، جس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں ایران کے 2 نیوکلیئر سائنسدان مارے گئے، پاسداران انقلاب کے سربراہ کمانڈر حسین سلامی کی بھی شہادت کی متضاد اطلاعات
امریکی رضا مندی
خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ان مذاکرات میں امریکی رضا مندی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، وزیراعظم کا چین کا دورہ طے، کیا بھارتی وزیراعظم سے ملاقات ہوگی؟
یورپی وزرائے خارجہ کی ملاقات
یورپی وزرائے خارجہ پہلے یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس سے جرمنی کے مستقل مشن پر ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: محرم الحرام کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو نے پیش گوئی کردی
اسرائیل کا مؤقف اور ایران کا جواب
جرمن سفارتی ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا مقصد ایران سے سخت یقین دہانی حاصل کرنا ہے کہ وہ جوہری توانائی کا استعمال صرف پرامن مقاصد کے لیے کرے گا۔ دوسری طرف، اسرائیل کی کوشش ہے کہ وہ تہران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: 30 سال بعد بچھڑے ہوئے بیٹے کی گھر واپسی، لیکن کچھ ہی روز میں ایسا انکشاف کہ پورے گھر میں خوف کی لہر دوڑ گئی
میزائل اور ڈرون حملے
ایران نے آپریشن "وعدہ صادق سوم" کے تحت اسرائیل پر 11 بار میزائل اور ڈرون داغ دیئے۔ اس بار "سیجل" میزائل کا پہلی بار استعمال کیا گیا ہے, جو اپنی نوعیت کا غیر معمولی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راجن پور: پنجاب پولیس کا کچہ میں نان سٹاپ آپریشن، 98 مزید ڈاکوؤں نے سرینڈر کر دیا
ایران کی دھمکیاں
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے خلاف تازہ میزائل حملے میں پہلی بار دور مار کے "سجیل" بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ، آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف جنگ کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ
اسرائیلی حملے کی توثیق
اسرائیلی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ وہ اب میزائل سسٹم اور انہیں ذخیرہ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشنز قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں، صدر مملکت
ایران کی سائبر کارروائیاں
ایران کی حکومت نے اسرائیل کی جانب سے سائبر حملوں کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ، اب تک امریکہ کے 7 طیارے تباہ ہوچکے، سی این این
امریکی صدر کی منصوبہ بندی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، مگر حتمی حکم ابھی جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نصیر الدین شاہ دلجیت دوسانجھ کی حمایت میں بول پڑے ، انتہا پسندوں کو کھری کھری سنا دیں
ایران کا دفاعی مؤقف
ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوتا ہے تو ان کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سارہ شریف قتل کیس: سوتیلی ماں ہی اصل ملزم قرار، پاکستانی نژاد والد کا عدالت میں بیان
موجودہ صورت حال
اتوار کے روز اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت مختلف علاقوں پر راکٹ داغے، جن میں مزید ایٹمی سائنسدان بھی جاں بحق ہوئے۔
اسرائیل کے خوف کی وجوہات
اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے مزید بیلسٹک میزائل حملوں کے خدشے کا اظہار کیا، جبکہ ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی اسرائیلی ڈرونز کو گرا دیا گیا۔








