ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، سپریم کورٹ آئینی بنچ
سپریم کورٹ کی سماعت کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان بحریہ نے لڑاکا جہاز بھی پانیوں میں اتار دیے؟ بڑا دعویٰ
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، کنول شوذب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: میلانیا ٹرمپ: ایک پُراسرار خاتون اوّل اور سابق ماڈل جو ہمیشہ نظروں سے دور رہتی ہیں
جسٹس جمال مندوخیل کا بیان
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل آپ کا شعر ذہن میں گونجتا رہا، ایک کارٹون بھی یاد آ گیا جس میں رنگ میں 2 لوگ ہیں، ان میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کا طبی اور قانونی بنیادوں پر توشہ خانہ2 کی سزائیں معطل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع
مرکزی کیس کی حیثیت
سلمان راجہ کل آپ نے کہا کہ عدالتوں میں نہیں جا سکتے تھے، سپریم کورٹ نے 100 فیصد پی ٹی آئی امیدواروں کو ریلیف دیا، تین بنچ بنے ہوئے تھے جس میں ایک بنچ میں بھی میں تھا، جتنی باتیں آپ آج کر رہے ہیں وہ مرکزی کیس میں کرنا تھیں، مرکزی کیس میں آپ نے کہا کہ نشستیں ان کو دے دو۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 10 کا میدان سج گیا ، افتتاحی تقریب میں قومی فنکاروں کی شاندار پرفارمنس، عوام پر جوش
سیاسی مسائل کے حل کی ضرورت
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 2018 کے اخبارات کا کارٹون یاد آیا، ایک رنگ میں 2 ریسلرز تھے، دو میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، مسائل جب تک سیاسی لوگ خود حل نہیں کریں گے ہم نہیں کر سکتے، ججز نے نظام کی اصلاحات نہیں کرنی، یہ حقائق آپ نے تو مرکزی کیس میں پیش نہیں کئے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو نے سموگ سے پریشان شہریوں کو دلچسپ مشورہ دے دیا
فہرست کے حوالے سے سوالات
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ابھی آپ نے ایک فہرست پیش کی جو پہلے نہیں تھی، یہ فہرست پہلے کہاں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری چیزیں ہم نے یہاں وہاں سے دیکھیں، ہم نے ریکارڈ خود منگوایا اور کہا غلط ہوا، سپریم کورٹ میں تین بنچز الیکشن مقدمات سن رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے مزید 2 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا آرڈر دے دیا
جاری بحث
کل آپ کہہ رہے تھے ہم الیکشن کے دوران عدالت نہیں آ سکتے تھے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 13 جنوری کو ہم ٹکٹ کے ساتھ آر اوز کے پاس بیٹھے تھے، آر او کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد وصول کریں گے، میں نے وہاں ناراضگی کا اظہار کیا، کہا کہ وصول کرکے رسید دیں، جو میں نے یہاں عدالت میں بھی پیش کی ہے۔
نظریاتی دلائل
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری باتیں ہو چکی ہیں ہم نے دیکھ کر فیصلہ دیا ہے، سلمان اکرم راجہ اب آپ نظرثانی سے متعلق دلائل دیں۔








