ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، سپریم کورٹ آئینی بنچ
سپریم کورٹ کی سماعت کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس میں جج بھی پریشان ہے کہ کیسے سزا سنائے کیونکہ گواہ تو جھوٹے ثابت ہو گئے تھے، علیمہ خان
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، کنول شوذب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: پیرا فورس بھی سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ گئی
جسٹس جمال مندوخیل کا بیان
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل آپ کا شعر ذہن میں گونجتا رہا، ایک کارٹون بھی یاد آ گیا جس میں رنگ میں 2 لوگ ہیں، ان میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وائلڈ لائف نے راوی کنارے فارم ہاؤس میں سیلابی پانی میں پھنسے 6 شیر ریسکیو کر لیے
مرکزی کیس کی حیثیت
سلمان راجہ کل آپ نے کہا کہ عدالتوں میں نہیں جا سکتے تھے، سپریم کورٹ نے 100 فیصد پی ٹی آئی امیدواروں کو ریلیف دیا، تین بنچ بنے ہوئے تھے جس میں ایک بنچ میں بھی میں تھا، جتنی باتیں آپ آج کر رہے ہیں وہ مرکزی کیس میں کرنا تھیں، مرکزی کیس میں آپ نے کہا کہ نشستیں ان کو دے دو۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اختلافات، پارٹی کے واٹس ایپ گروپس میں سلمان اکرم راجا پر تنقید
سیاسی مسائل کے حل کی ضرورت
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 2018 کے اخبارات کا کارٹون یاد آیا، ایک رنگ میں 2 ریسلرز تھے، دو میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، مسائل جب تک سیاسی لوگ خود حل نہیں کریں گے ہم نہیں کر سکتے، ججز نے نظام کی اصلاحات نہیں کرنی، یہ حقائق آپ نے تو مرکزی کیس میں پیش نہیں کئے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر کی ملاقات
فہرست کے حوالے سے سوالات
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ابھی آپ نے ایک فہرست پیش کی جو پہلے نہیں تھی، یہ فہرست پہلے کہاں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری چیزیں ہم نے یہاں وہاں سے دیکھیں، ہم نے ریکارڈ خود منگوایا اور کہا غلط ہوا، سپریم کورٹ میں تین بنچز الیکشن مقدمات سن رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوریت کی بحالی میں بیگم نصرت بھٹو کی خدمات ناقابل فراموش ہیں: صدر مملکت
جاری بحث
کل آپ کہہ رہے تھے ہم الیکشن کے دوران عدالت نہیں آ سکتے تھے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 13 جنوری کو ہم ٹکٹ کے ساتھ آر اوز کے پاس بیٹھے تھے، آر او کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد وصول کریں گے، میں نے وہاں ناراضگی کا اظہار کیا، کہا کہ وصول کرکے رسید دیں، جو میں نے یہاں عدالت میں بھی پیش کی ہے۔
نظریاتی دلائل
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری باتیں ہو چکی ہیں ہم نے دیکھ کر فیصلہ دیا ہے، سلمان اکرم راجہ اب آپ نظرثانی سے متعلق دلائل دیں۔








