ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، سپریم کورٹ آئینی بنچ
سپریم کورٹ کی سماعت کا آغاز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی سے لاہور چاندی کی بھاری کھیپ سمگل کرنے کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی، کنول شوذب کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: 10ویں بیٹل ایکس پولوکپ2024ءکا فائنل ٹیم ڈائمنڈ پینٹس نے جیت لیا
جسٹس جمال مندوخیل کا بیان
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کل آپ کا شعر ذہن میں گونجتا رہا، ایک کارٹون بھی یاد آ گیا جس میں رنگ میں 2 لوگ ہیں، ان میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ہم جج ہیں، کوئی ریفارمر نہیں ہیں، ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت بینیفشری ہوتی ہے، یہ خود سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں انتشار رہے گا تو پاکستان ترقی نہیں کرے گا:شاہد خاقان عباسی
مرکزی کیس کی حیثیت
سلمان راجہ کل آپ نے کہا کہ عدالتوں میں نہیں جا سکتے تھے، سپریم کورٹ نے 100 فیصد پی ٹی آئی امیدواروں کو ریلیف دیا، تین بنچ بنے ہوئے تھے جس میں ایک بنچ میں بھی میں تھا، جتنی باتیں آپ آج کر رہے ہیں وہ مرکزی کیس میں کرنا تھیں، مرکزی کیس میں آپ نے کہا کہ نشستیں ان کو دے دو۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اسرائیلی حملوں سے قبل کئی بار نیتن یاہو سے بات کی، سی این این کا دعویٰ
سیاسی مسائل کے حل کی ضرورت
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 2018 کے اخبارات کا کارٹون یاد آیا، ایک رنگ میں 2 ریسلرز تھے، دو میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، مسائل جب تک سیاسی لوگ خود حل نہیں کریں گے ہم نہیں کر سکتے، ججز نے نظام کی اصلاحات نہیں کرنی، یہ حقائق آپ نے تو مرکزی کیس میں پیش نہیں کئے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر پاکستانیوں کی جانب سے امارات کے شیوخ اور عوام کو مبارک باد
فہرست کے حوالے سے سوالات
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ابھی آپ نے ایک فہرست پیش کی جو پہلے نہیں تھی، یہ فہرست پہلے کہاں تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری چیزیں ہم نے یہاں وہاں سے دیکھیں، ہم نے ریکارڈ خود منگوایا اور کہا غلط ہوا، سپریم کورٹ میں تین بنچز الیکشن مقدمات سن رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو غیر قانونی موبائل سمز کی روک تھام کے لیے قواعد بنانے کا حکم دے دیا
جاری بحث
کل آپ کہہ رہے تھے ہم الیکشن کے دوران عدالت نہیں آ سکتے تھے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 13 جنوری کو ہم ٹکٹ کے ساتھ آر اوز کے پاس بیٹھے تھے، آر او کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد وصول کریں گے، میں نے وہاں ناراضگی کا اظہار کیا، کہا کہ وصول کرکے رسید دیں، جو میں نے یہاں عدالت میں بھی پیش کی ہے۔
نظریاتی دلائل
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری باتیں ہو چکی ہیں ہم نے دیکھ کر فیصلہ دیا ہے، سلمان اکرم راجہ اب آپ نظرثانی سے متعلق دلائل دیں۔








