ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وار ہیڈ کا استعمال: اسرائیلی میڈیا
ایران کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملہ
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی اخبار "دی ٹائمز آف اسرائیل" نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے آج اسرائیل پر داغے گئے کم از کم ایک بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وار ہیڈ نصب تھا، جس کی تصدیق اسرائیلی فوج کے "ہوم فرنٹ کمانڈ" نے کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا اصولی موقف ہے میں کوئی کیس ٹرانسفر نہیں کروں گا، جسٹس محسن اختر کیانی کے ایک سے دوسرے بنچ میں کیسز ٹرانسفر کرنے پر ریمارکس
کلسٹر بم وار ہیڈ کا اثر
رپورٹ کے مطابق، کلسٹر بم وار ہیڈ والے میزائل جب ہدف کی طرف گرتے ہیں تو وہ ہوا میں پھٹ کر چھوٹے چھوٹے متعدد بم گراتے ہیں، جو مختلف جگہوں پر پھیل کر نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر ترجمان سندھ حکومت کا رد عمل بھی آ گیا
آزور میں حملہ
ان ہی میں سے ایک ذیلی بم (submunition) نے آج کے حملے میں آزور نامی اسرائیلی علاقے میں ایک رہائشی گھر کو نشانہ بنایا، جس سے جانی نقصان کی اطلاعات تو نہیں، مگر املاک کو نقصان ضرور پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی: 27 مئی سے اب تک بارشوں اور آندھی سے ہونیوالے نقصانات کی تفصیلات جاری
ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی مخصوصیت
اخبار سے وابستہ ایک صحافی نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ "ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایسے بیلسٹک میزائل رکھتا ہے جو 'ملٹیپل انڈیپنڈنٹلی ٹارگیٹیبل ری انٹری وہیکلز' (MIRV) ٹیکنالوجی کے حامل ہیں، یعنی ایک ہی میزائل کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: لیہ میں زمین تنازع: خاتون اور اس کی دو بیٹیوں کی خودکشی کی کوشش
عوامی احتیاطی تدابیر
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ "اگر زمین پر کوئی میزائل کا باقی ماندہ حصہ یا مشکوک شے نظر آئے تو اس کے قریب نہ جائیں، کیونکہ یہ دھماکے سے پھٹ سکتی ہے اور جان لیوا ہو سکتی ہے۔"
خطرے کا احساس
اس انکشاف کے بعد اسرائیل میں خطرے کا احساس مزید بڑھ گیا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں ایسے ہتھیار وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔








