خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی زونز کے لیے ٹیکس مراعات ختم کرنے کا فیصلہ
اقتصادی زونز کیلئے ٹیکس مراعات کا خاتمہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی زونز کے لئے ٹیکس مراعات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے اپنے گلوبل انڈر گریجویٹ ایکسچینج پروگرام کے حوالے سے وضاحت جاری کر دی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
نجی ٹی وی سماء کے مطابق جمعرات کے روز سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا، جہاں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی زونز کے حوالے سے بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ کے جوتوں کا جوڑا 28 ملین ڈالر میں فروخت، ریکارڈ بن گیا
آئی ایم ایف معاہدہ اور مراعات کا خاتمہ
ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) معاہدے کے مطابق 2035 تک تمام مراعات ختم کر دی جائیں گی اور طے ہوا ہے کہ مستقبل میں کسی خصوصی اقتصادی زون کو ٹیکس چھوٹ نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے زرعی سائنسی شہر یانگ لنگ میں 300 کے قریب پاکستانی گریجویٹس کا خیرمقدم
چیئرمین ایف بی آر کا بیان
اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے اور ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ راشد محمود لنگڑیال نے مزید بتایا کہ مختلف شعبوں کے لئے ٹیکس چھوٹ اور رعایتی ٹیکس ریٹ ختم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے عادل بازئی کی نااہلی کیلئے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کرلیا
سینیٹر انوشہ رحمان کی تنقید
اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے سوال اٹھایا کہ ایک ادارہ صرف 12 افراد کا ہے اور اس کے پاس 13 ارب روپے موجود ہیں، لیکن 12 افراد کے اینڈر میں اتنی بڑی رقم کیسے آ سکتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے اہم رہنما کی ضمانت منظور
حکومتی موقف
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ان اداروں میں نادرا، سی ڈی اے اور کراچی پورٹ بھی شامل ہیں۔ انوشہ رحمان نے مزید کہا کہ کیوں نہ ان اداروں کو اپنے پیسے انویسٹ کرنے کے اختیارات دے دیے جائیں؟
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بیوی کو قتل کرنے والا شوہر سی سی ٹی وی کی مدد سے گرفتار
چیرمین کمیٹی کی تشویش
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان خود مختار اداروں میں سے کسی نے بھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران نادرا نے 8 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
وزیر خزانہ کا جواب
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ قوانین کے لئے کمیٹی کی طرف سے کوئی ترامیم بنا کر دی جائیں، ہم اس پر غور وخوض کر کے کل سیکرٹری خزانہ کے ساتھ آئیں گے۔








