خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی زونز کے لیے ٹیکس مراعات ختم کرنے کا فیصلہ
اقتصادی زونز کیلئے ٹیکس مراعات کا خاتمہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی زونز کے لئے ٹیکس مراعات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے واقعات پر فیکٹ شیٹ جاری، جنوری تا جون 6ماہ کے دوران 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
نجی ٹی وی سماء کے مطابق جمعرات کے روز سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا، جہاں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے خصوصی اقتصادی زونز اور ٹیکنالوجی زونز کے حوالے سے بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: خان صاحب باہر آ گئے تو حکومت ایک گھنٹہ بھی نہیں چل سکے گی، شبلی فراز
آئی ایم ایف معاہدہ اور مراعات کا خاتمہ
ایف بی آر نے کمیٹی کو بتایا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) معاہدے کے مطابق 2035 تک تمام مراعات ختم کر دی جائیں گی اور طے ہوا ہے کہ مستقبل میں کسی خصوصی اقتصادی زون کو ٹیکس چھوٹ نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب کی 9 مئی کے تین مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع
چیئرمین ایف بی آر کا بیان
اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے اور ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ راشد محمود لنگڑیال نے مزید بتایا کہ مختلف شعبوں کے لئے ٹیکس چھوٹ اور رعایتی ٹیکس ریٹ ختم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری عبدالوحید کی جانب سے صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ، چوہدری نور الحسن کی سالگرہ بھی منائی گئی
سینیٹر انوشہ رحمان کی تنقید
اجلاس کے دوران سینیٹر انوشہ رحمان نے سوال اٹھایا کہ ایک ادارہ صرف 12 افراد کا ہے اور اس کے پاس 13 ارب روپے موجود ہیں، لیکن 12 افراد کے اینڈر میں اتنی بڑی رقم کیسے آ سکتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخابات، ٹرمپ نے 232 اور کملا ہیرس نے 198 الیکٹورل ووٹ لے لئے
حکومتی موقف
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ان اداروں میں نادرا، سی ڈی اے اور کراچی پورٹ بھی شامل ہیں۔ انوشہ رحمان نے مزید کہا کہ کیوں نہ ان اداروں کو اپنے پیسے انویسٹ کرنے کے اختیارات دے دیے جائیں؟
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کر لیا
چیرمین کمیٹی کی تشویش
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان خود مختار اداروں میں سے کسی نے بھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران نادرا نے 8 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
وزیر خزانہ کا جواب
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ قوانین کے لئے کمیٹی کی طرف سے کوئی ترامیم بنا کر دی جائیں، ہم اس پر غور وخوض کر کے کل سیکرٹری خزانہ کے ساتھ آئیں گے۔








