1. 8 فروری انتخابات شفاف نہیں تھے تو سپریم کورٹ نے کیوں کالعدم نہیں کئے؟ جسٹس باقر نجفی کا سلمان اکرم راجہ سے استفسار
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آئینی بنچ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواست کے دوران، جسٹس باقر نجفی نے سلمان اکرم راجا سے سوال کیا کہ آپ ماضی کے آئینی انحرافات کی بات کر رہے ہیں، کچھ مارشل لا واضح نہیں تھے، ان انتخابات میں کیا آئینی انحراف ہوا؟ آپ کہتے ہیں کہ 8 فروری کے انتخابات شفاف نہیں تھے تو سپریم کورٹ نے انتخابات کو کیوں کالعدم نہیں کیا؟
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں سے جیل میں ملاقات کرنے کا معاملہ، اعظم سواتی کی درخواست خارج
جسٹس جمال مندوخیل کا بیان
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم فیصلے دیتے رہتے ہیں، لیکن سیاستدان کیوں نہیں سوچتے؟ جسٹس صلاح الدین پنہور نے مزید کہا کہ اگر 80 ارکان آزاد رہتے تو مخصوص نشستوں کا کیا ہوتا؟ سلمان اکرم راجا نے اس پر کہا کہ اس سے عوام کا حق متاثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ، بانو بی بی قتل کیس میں بڑی پیشرفت، مقتولہ کا دیور گرفتار
بی اے پی کو مخصوص نشستیں دینے کا معاملہ
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ بی اے پی کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلہ غلط تھا یا درست؟ جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بی اے پی کو مخصوص نشستیں دینا اتنا غلط بھی نہیں تھا۔ 80 ارکان نے اس غلط فہمی میں کہ وہ آزاد ہیں، سنی اتحاد کو جوائن کیا، جبکہ اکثریتی فیصلے نے سنی اتحاد کو جوائن کرنے کے عمل کو کالعدم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چوری، دھمکیاں اور ہراساں کرنے کا مقدمہ، 5سالہ بچہ اپنی ضمانت کروانے ملیر، کراچی کی عدالت پہنچ گیا
عدالت کا فیصلہ اور آئینی انحرافات
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں کہا ہے کہ اگر ناانصافی نہ ہوئی ہو تو غلط فیصلے پر نظرثانی نہیں ہو سکتی۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے اپنے لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ کیا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پھر وہی بات ہو جائے گی جو میں نے پہلے کہی، کہ سیاسی جماعتیں خود کیوں نہیں سوچتیں؟
نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی ملتوی
عدالت نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔








