ایران اسرائیل جنگ سے بلوچستان کیوں متاثر ہورہا ہے؟
ایران اور اسرائیل جنگ کے اثرات
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب بلوچستان پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر کے والد کا کراچی آنے اور لاش وصول کرنے سے انکار
پاک-ایران سرحدی کراسنگ پوائنٹس کی بندش
نجی ٹی وی جیونیوزکے مطابق ایران سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی علاقے طویل عرصے سے ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کا اہم مرکز سمجھے جاتے تھے، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث پاک-ایران سرحدی کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے یہ سارا کاروبارٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاؤں سے 4گھنٹے پیدل یا بیل گاڑی پر سفر کر کے فورٹ عباس یا قریبی اسٹیشن ٹبہ عالمگیر پہنچتے، چھوٹے اسٹیشن دو تین ہی مشہور ہوئے، ایک ڈونگا بونگا تھا
ایرانی پیٹرول کی قلت اور کرایوں میں اضافہ
صوبے بھر میں ایرانی پٹرول نایاب ہو چکا ہے حتیٰ کہ کوئٹہ کے گلی کوچوں میں قائم سینکڑوں منی پیٹرول پمپس بھی بند ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں رکشہ ڈرائیورز اور دیگر ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Saudi Arabia and Pakistan Poised for $2 Billion Investment Agreement
ایل پی جی گیس کی قلت کا خدشہ
دوسری جانب ایل پی جی گیس کا بھی خطرہ ہے کہ وہ ختم ہونے والی ہے جس کے باعث اس کے ریٹس بھی بڑھنے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
ایرانی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ
کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ایرانی اشیاء کی شدید قلت کے باعث ان کی قیمتیں دُگنی ہوگئی ہیں۔ ایران اسرائیل جنگ سے قبل کوئٹہ میں ایرانی اشیائے خورونوش کی فروخت عام تھی۔ شہر کے مختلف علاقوں کی مارکیٹوں اور دکانوں میں ایرانی کوکنگ آئل، گھی، بسکٹ، خشک میوہ جات، کمبل، دہی، لسی اور دیگر اشیاء بآسانی دستیاب رہتی تھیں، تاہم اب پاک-ایران سرحد کی بندش سے نہ صرف ان اشیاء کی قلت پیدا ہونے لگی ہے بلکہ قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے اقدامات کی ضرورت
شہریوں کا کہنا ہے کہ اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری، مؤثر اور جامع اقدامات کرنا ہوں گے۔








