فلسطینی نواز محمود خلیل کی ضمانت، کیا رہائی ہوگی؟
محمود خلیل کی ضمانت پر رہائی کا حکم
نیو یا ر ک(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کی وفاقی عدالت کے جج نے فلسطین نواز طالب علم محمود خلیل کو ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک کا پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کا اعلان
رہائی کی امیدیں
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ محمود خلیل کو آئس لیوزینا کے حراستی مرکز سے آج رہائی مل سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری محبت نے خوشبو کی نرم حدوں کو چھو لیا
محمود خلیل کا پس منظر
محمود خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور امریکہ میں قانونی طور پر مستقل رہائش پزیر ہیں۔ انہیں حکام نے 104 سے لیوزی اینا میں زیر حراست رکھا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار اور بھارتی فوج ’’آپریشن سندور‘‘ میں ناکامی کے بعد اپنے فوجیوں کی ہلاکت چھپانے میں مصروف، متضاد کہانیاں سامنے آنے لگیں
گرفتاری کا سبب
جج نے تسلیم کیا کہ محمود خلیل کی گرفتاری فلسطین کے حق میں ان کی تقریر کی وجہ سے کی گئی۔ اپریل میں ان کے بیٹے کی پیدائش ہوئی تو انہیں اس وقت بھی اہلیہ اور نومولود سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور کولمبیا میں اپنی گریجویشن میں شرکت کا موقع بھی نہیں دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چھوٹے اور بڑے ٹیلوں کے درمیان بہتا دریائے چناب کا سورج کی روشنی میں چمکتا ہوا پانی، جیسے ستارے پانی پر اترے ہوں، ہر طرف قدرتی مناظر بکھرے ہوئے ہیں۔
عدالتی سماعت کی تفصیلات
وفاقی عدالت کے جج نے محمود خلیل کی رہائی کے پچھلے ہفتے بھی احکامات دیے تھے، تاہم حکومت کی جانب سے اس الزام پر کہ خلیل نے گرین کارڈ کی درخواست جمع کرانے کے موقع پر جھوٹ بولا تھا، ان کی حراست برقرار رکھنے کا حکم دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں پرتشدد مظاہرے، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور متعدد وزراء کے گھروں کو آگ لگا دی گئی
غیرآئینی عمل
اب وفاقی جج اس بات پر متفق تھے کہ محمود خلیل کی گرفتاری کولمبیا کے مین ہٹن کیمپس مظاہرے میں ان کے کردار پر حکومت کا غیرقانونی ردعمل تھا۔ دوگھنٹے تک جاری سماعت کے اختتام پر جج فربیارز نے کہا کہ اس دلیل میں کچھ بات ہے کہ محمود خلیل پر امیگریشن سے متعلق الزام سزا کے طور پر استعمال کیا جائے اور یقینی طور پر یہ عمل غیرآئنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشار الاسد کے چچا رفعت الاسد 88 برس کی عمر میں چل بسے
رہائی کی عدم وضاحت
وفاقی عدالت کے حکم کے باوجود محمود خلیل کی فوری رہائی اس لیے واضح نہیں کہ لیوزی اینا کے جج نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا ہوا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کے ایک اور الزام کے تحت محمود خلیل کی امریکہ سے جبری بے دخلی ممکن ہے۔
سیاسی پس منظر
یاد رہے کہ محمود خلیل شام کے شہری ہیں اور انہیں حماس کی حمایت میں سرگرمیوں کی قیادت کے الزام میں مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ محمود خلیل کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین نواز سرگرم کارکن تھے اور غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف پچھلے سال طلبہ کے مظاہروں میں پیش قدمی کی۔







