شہید جمہوریت بے نظیر بھٹو کی آج 72 ویں یوم پیدائش
72 ویں یوم پیدائش
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی آج 72 ویں یوم پیدائش منائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شبیر اقبال کی شاندار برتری، 11ویں جے اے زمان میموریل اوپن گالف چیمپئن شپ کا فیصلہ کن مرحلہ آج ہوگا
تقریبات کا انعقاد
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق شہید بے نظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے شہر کے مختلف مقامات پر کیک کاٹنے کی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ تقریبات میں شہید بے نظیر بھٹو کی زندگی، جمہوریت کے لئے خدمات اور شہادت پر روشنی ڈالی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ابراہیم علی خان نے پلک تیواری کیساتھ افیئر پر خاموشی توڑ دی
زندگی کا سفر
سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی لاڈلی بیٹی بے نظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ والد نے اپنی لاڈلی بیٹی کا نام بچپن میں پنکی رکھا۔ بےنظیر بھٹو نے اعلیٰ تعلیم آکسفورڈ اور ہاورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی، اور اپنے والد کے ہمراہ کئی ممالک کا دورہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمتوں کو پھر پرَ لگ گئے، فی تولہ قیمت میں بڑااضافہ
سیاسی جدوجہد
والد کی گرفتاری کے بعد بے نظیر بھٹو نے والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور بہت چھوٹی سی عمر میں پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو کو گرفتار کر کے نظر بند کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ابھی ریسٹ کرو، سمجھو تمہارا ایک اور ہنی مون پیریڈ ہے یہ، اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں۔ صاحب کی الیکشن مہم جاندار تھی، اب الیکشن نتائج کا انتظار تھا۔
جلاوطنی اور واپسی
بےنظیر بھٹو نے تب سے آمریت کے خلاف جدوجہد کی اور بعد ازاں جلا وطنی اختیار کی۔ 1986 کو جب جلاوطنی ختم کر کے بے نظیر نے لاہور کی سر زمین پر قدم رکھا تو لاکھوں افراد نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ملائیشیا میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، تجارت، تعاون میں نئی راہیں تلاش کرنی ہوں گی، شاہد جاوید قریشی
ازدواجی زندگی اور وزارت عظمیٰ
محترمہ بے نظیر بھٹو 1987 میں آصف علی زرداری کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ 1988 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے بے نظیر بھٹو ایشیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہوئیں، لیکن 1990 میں ان کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کینالز سے متعلق بلاول کا دعویٰ درست ثابت ہوا تو عارف علوی کو شوکاز دیا جائے گا: علی محمد خان
دوسری وزارت اور شہادت
شہید بے نظیر بھٹو 1993 میں دوسری بار وزیر اعظم بنیں، 1996 میں ایک بار پھر ان کی حکومت کو برطرف کیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے دوسری بار جلاوطنی کے بعد 2007 میں کراچی کی سرزمین پر قدم رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: متنازع ٹویٹ کیس، ایمان مزاری کو عدالت نے ریلیف دے دیا
انتخابی مہم اور شہادت
محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک بار پھر پورے ملک میں انتخابی مہم شروع کی۔ انتخابی مہم کے دوران ہی 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کے بعد واپس آرہی تھیں کہ دہشت گردوں نے اپنے عزائم کی تکمیل میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا۔
ادھورے خواب
دختر مشرق، شہید جمہوریت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو عالمی شہرت یافتہ سیاسی رہنما تھیں، اور وہ تاریخ میں ہمیشہ ناقابل فراموش رہیں گی۔








