ترکیہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جاری، ایران اور غزہ کی صورتحال پر توجہ مرکوز
استنبول میں او آئی سی کا اہم اجلاس
ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس جاری ہے، جس میں مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز اور خطے میں بگڑتی صورتحال زیر بحث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، کورنگی میں 3 لاکھ کی سپاری دیکر باپ کو قتل کروانے والا بیٹا گرفتار
اجلاس میں شمولیت
اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت 40 سے زائد ممالک کے سفارت کار شریک ہیں، جب کہ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کر رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ او آئی سی کے اس پلیٹ فارم پر اسحاق ڈار اور عباس عراقچی ایک ساتھ نشستوں پر جلوہ افروز ہیں، جو علاقائی اتحاد و مکالمے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں حکومت کی خواہش نہیں، بس ہمارا آئین واپس کر دیں ورنہ پھر ہم عوام منظم کریں گے، محمود خان اچکزئی
ایران کی صورتحال پر تفصیلی جائزہ
اجلاس کے دوران نہ صرف ایران میں حالیہ کشیدگی کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے بلکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ، اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے خصوصی سیشن بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار پاکستان کا مؤقف پوری شدت سے پیش کریں گے، جس میں خطے میں امن، سفارتکاری اور یکجہتی کے اصولوں پر زور دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں مہنگائی کے خلاف تہران سے شروع ہونے والے مظاہرے مزید شہروں تک پھیل گئے
ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف
او آئی سی اجلاس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو میں دو ٹوک مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا بھرپور حق رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے 15 جون کو ہونے والے مذاکرات سے صرف دو روز قبل ایران پر حملہ کرکے ثابت کردیا کہ وہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنے کا خواہاں نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: Both SSPs Must Present Progress Reports or Face Arrest Warrants: Islamabad High Court Remarks in Recovery Case
ترک صدر کا خطاب
اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان بھی وزرائے خارجہ سے خصوصی خطاب کریں گے، جس میں وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران، فلسطینیوں کی حالتِ زار اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر روشنی ڈالیں گے۔
اجلاس کے مضمرات
استنبول میں جاری یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، اور او آئی سی کے فیصلے مسلم دنیا کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔








