نیتن یاہو، ہٹلر کی طرح پوری دنیا میں شرارتیں کر رہا ہے، اس نے خطے کو جنگ میں دھکیل دیا : طیب اردگان
ترکیہ کے صدر کا خطاب
استنبول (ڈیلی پاکستان آن لائن) او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں پر حملے کر رہاہے۔ اسرائیل مسلسل خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہاہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کے زیر محاصرہ شمالی غزہ کے ہسپتالوں میں کفن ختم
خطے میں عدم استحکام
اردوان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کبھی امن نہیں ہو سکتا۔ غزہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ غزہ کے عوام کا دکھ ہمارا اپنا دکھ ہے۔ جبر جتنا بھی شدید ہو، جیت حق اور سچائی کی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ اپنی نسلوں کیلئے کیا کرکے جارہے ہیں؛ جسٹس نعیم اختر کے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس میں ریمارکس، صوبوں سے متعلق اقدامات رپورٹ طلب
اسرائیلی جارحیت
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے اسرائیلی جارحیت دیکھ رہے ہیں، اسرائیل عالمی ممالک کی پشت پناہی میں جارحیت کر رہا ہے۔ غزہ میں بھوک اور افلاس کا راج ہے، فلسطینیوں کا غم ہمارا غم ہے۔ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کے بغیر نیٹو ایک کاغذی شیر ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو بزدل قرار دے دیا۔
ایران کے ساتھ اتحاد
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے بعد ایران کو نشانہ بنایا ہے، اور ہم اس مشکل گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سسرالیوں سے تنگ آکر پولیس کانسٹیبل کی اہلیہ نے خودکشی کر لی
امریکی اور ایرانی مذاکرات پر اثر
ترک صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔ یہ اسرائیلی حملے ثابت کرتے ہیں کہ کسی تنازع کا سفارتی حل نکالنا ان کے ہوتے ہوئے مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمیز راجا نے بابراعظم کے بارے میں انتہائی حیران کن دعویٰ کر دیا
مسلمانوں کا اتحاد
اردوان نے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلمان متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کریں۔ نیتن یاہو نے ثابت کیا کہ وہ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025 کا دوسرا سورج گرہن 21 اور 22 ستمبر کو ہوگا، محکمہ موسمیات۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
انہوں نے عالمی ممالک سے اپیل کی کہ اسرائیلی اقدامات پر خاموش نہ رہیں۔ ہمارا خطہ ایک نئی جنگ کا متحمل نہیں ہے، اور ہم ایران کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
حالیہ ہتھیاروں کی سرگرمیاں
اردوان نے کہا کہ اسرائیل کی اپنی نیوکلیئر سرگرمیوں کا کوئی حساب نہیں ہے اور اسرائیل نے خطے کو جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ اسرائیلی حملوں میں 55 ہزار فلسطینی بہن بھائی شہید ہو چکے ہیں۔








