خواتین کی مکمل شرکت پاکستان کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے،اداروں اور حکومت کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، شاہد عبدالسلام تھہیم
ای ایف پی کی نیشنل فورم کا انعقاد
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) نے جی آئی زیڈ، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) اور یونیسف کے اشتراک سے وومن ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (ڈبلیو ڈی این) کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے نیشنل فورم اور ایوارڈز تقریب کا انعقاد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نتیجہ تب ہی نکلے گا جب گفتگو جاری رہے گی، عمران خان کو سائیڈ پر رکھ کر کوئی گفتگو نہیں ہو سکتی، سلمان اکرم راجا
مقصد اور شرکت
اس تقریب کا مقصد آگاہی بڑھانا اور ان کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو صنفی مساوات کو فروغ دینے اور کام کے مواقع پیدا کرکے خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بہترین اقدامات کر رہی ہیں۔ تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں، اسٹیک ہولڈرز، صنعتی رہنماؤں، چیمبرز، ایسوسی ایشنز، متعلقہ حکومتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سمیت 200 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: نئی تاریخ رقم، سونے کی فی اونس قیمت 5 ہزار ڈالر کی حد عبور کرگئی
ایوارڈز کی تقسیم
16 کمپنیوں کو ڈائمنڈ، 20 کو گولڈ جبکہ 10 کمپنیوں کو سلور ایوارڈ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حقائق پر مبنی معلومات کی فراہمی کے لیے ڈی جی پی آر میں خصوصی کنٹرول روم قائم کردیا: عظمیٰ بخاری
وزیر محنت سندھ کا خطاب
وزیر محنت سندھ سید شاہد عبدالسلام تھہیم نے اپنے خطاب میں خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے سندھ حکومت کے عملی اقدامات کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مساوی مواقعوں کی فراہمی نہ صرف سماجی انصاف بلکہ معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے، جو کاروبار اور معاشرے دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں اوور سپیڈنگ کرنے والوں اور نابالغ ڈرائیورز کیخلاف حکم آ گیا
آئی ایل او کا عزم
آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر گیر ٹونسٹول نے کہا کہ آئی ایل او نہ صرف پاکستان میں صنفی مساوات کو بہتر بنانے بلکہ ای ایف پی جیسے اداروں کے ساتھ مل کر خواتین کو بااختیار بنانے، بہترین اقدامات کو سراہنے اور تمام کے لیے مناسب کام کی شرائط کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ایران سے جنگ طول پکڑتی ہے تو۔۔۔؟ برطانوی ماہرین نے متنبہ کر دیا
ای ایف پی کی کوششیں
ای ایف پی کے نائب صدر محمد فیروز عالم نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر محنت سندھ اور تعاون کرنے والے اداروں جی آئی زیڈ، آئی ایل او اور یونیسف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صنفی مساوات ایک بنیادی حق اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے پلیئر آف دی منتھ کے نام کا اعلان کر دیا
صنفی مساوات کی پالیسی
فیروز عالم نے ای ایف پی کی صنفی مساوات کی پالیسی گائیڈ لائنز اور تربیتی پروگراموں جیسی اقدامات کا ذکر کیا اور ایوارڈ ونرز کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی نہیں جانتا کہ عمران خان کس حال میں ہیں، اگر ہماری ملاقات کرا دی جاتی تو ہم آرام سے چلے جاتے، نورین خان
پوزیشن پیپر کا اجرا
ای ایف پی کی بورڈ ڈائریکٹر اور ڈبلیو ڈی این کی کنوینر صدف حاطف نے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خواتین کی ملازمت اور بااختیار بنانے کے حوالے سے ای ایف پی، ڈبلیو ڈی این کا پوزیشن پیپر جاری کیا جس میں تین اہم سفارشات پر روشنی ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ، انگلینڈ کانٹے دار مقابلے کے بعد اٹلی کو شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے میں پہنچ گیا
کمپنیوں کی پیشکش
نیشنل فورم میں کمپنیوں کے بہترین اقدامات کو اجاگر کیا گیا جس میں ایم جی اے انڈسٹریز، یونس ٹیکسٹائل ملز، نیسلے پاکستان اور ایچ نظام الدین اینڈ سنز لمیٹڈ کی نمائندہ سمن چودھری، تہمینہ علی، سارہ اظہر اور اریبہ اسلا نے خواتین کی با اختیار بنانے اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے جیسی کوششوں پر تفصیلی پریزینٹیشن دی۔
پینل ڈسکشن کے نکات
پینل ڈسکشن میں شامل ماہرین نے کہا کہ کاروباری اداروں، حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر نظامی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا تاکہ کام کی جگہ پر حقیقی صنفی مساوات حاصل کی جا سکے۔








