امریکی رکن کانگریس نے ایران پر حملہ ٹرمپ کیخلاف مواخذےکی بنیاد قرار دے دیا
کانگریس کی رکن کا ٹرمپ کے حملے پر ردعمل
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی رکن کانگریس نے ایران پر حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ملیر جیل سے فرار ایک اور قیدی گرفتار
ملکی آئین کی خلاف ورزی
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق ایکس پر جاری بیان میں امریکی خاتون رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیوکورٹیز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر بمباری کا تباہ کن فیصلہ آئین اور کانگریس کے جنگی اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گٹر میں گرا 3 سالہ بچہ 12 گھنٹے بعد بھی نہ مل سکا، شہری مشتعل، سڑک بلاک
جنگ کا خطرہ
ڈیموکریٹ رکن کانگریس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جذبات میں آ کر ایک ایسی جنگ کا خطرہ مول لیا ہے جو ہمیں نسلوں تک الجھاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں سے متعلق کیس؛ سلمان اکرم راجہ اور ججوں کے درمیان دلچسپ مکالمہ
مواخذے کی بنیاد
الیگزینڈریا کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر اور واضح طور پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوجیوں نے امریکی نیوز چینل کی ٹیم کو حراست میں لے لیا
صدر ٹرمپ کا بیان
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی 3 نیوکلیئر سائٹس پر کامیاب حملہ کیا اور فردو ایٹمی تنصیب مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس، اعلامیہ جاری کر دیا گیا
ہدف کی وضاحت
بعد ازاں واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، امریکہ کا مقصد ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا اور ایران کی تنصیبات ختم کر دی گئی ہیں۔
مستقبل کے اہداف
امریکی صدر نے کہا کہ آج رات کے اہداف سب سے مشکل تھے، بہت سے اہداف رہ گئے، امن نہ ہوا تو درستگی کے ساتھ دیگر اہداف کے پیچھے جائیں گے۔








