امریکی رکن کانگریس نے ایران پر حملہ ٹرمپ کیخلاف مواخذےکی بنیاد قرار دے دیا
کانگریس کی رکن کا ٹرمپ کے حملے پر ردعمل
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی رکن کانگریس نے ایران پر حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ای ٹی سی لاہور کے جج کا 9 مئی کے مقدمات جلد نمٹانے کا فیصلہ
ملکی آئین کی خلاف ورزی
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق ایکس پر جاری بیان میں امریکی خاتون رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیوکورٹیز نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر بمباری کا تباہ کن فیصلہ آئین اور کانگریس کے جنگی اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں پولیو کے مزید 2 کیسز رپورٹ، رواں سال تعداد 12 ہوگئی
جنگ کا خطرہ
ڈیموکریٹ رکن کانگریس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے جذبات میں آ کر ایک ایسی جنگ کا خطرہ مول لیا ہے جو ہمیں نسلوں تک الجھاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افواج پاکستان کی شان ہیں، ہم ان کی بدولت امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں: مراد علی شاہ
مواخذے کی بنیاد
الیگزینڈریا کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر اور واضح طور پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی بنیاد ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہترین انتظامات کیے ،حضرت داتا گنج بخشؒ کے زائرین ہمارے مہمان ہیں: وزیر اعلیٰ پنجاب
صدر ٹرمپ کا بیان
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی 3 نیوکلیئر سائٹس پر کامیاب حملہ کیا اور فردو ایٹمی تنصیب مکمل طور پر تباہ کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں دائر کر دیں۔
ہدف کی وضاحت
بعد ازاں واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، امریکہ کا مقصد ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت کو ختم کرنا تھا اور ایران کی تنصیبات ختم کر دی گئی ہیں۔
مستقبل کے اہداف
امریکی صدر نے کہا کہ آج رات کے اہداف سب سے مشکل تھے، بہت سے اہداف رہ گئے، امن نہ ہوا تو درستگی کے ساتھ دیگر اہداف کے پیچھے جائیں گے۔








