پہلگام واقعے کے حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں 2 افراد گرفتار
بھارتی انسداد دہشت گردی ایجنسی کی کارروائی
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) - ڈان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارتی انسداد دہشت گردی ایجنسی نے پیشہگام واقعے کے حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے معدنی ذخائر اعلیٰ عالمی معیار کے ہیں جو 2 لاکھ 30 ہزار مربع میل پر محیط ہیں، امریکی جریدے کا اعتراف
گرفتاری کی تفصیلات
ڈان نے عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ بھارت کی انسداد دہشت گردی ایجنسی نے اتوار کے روز کہا کہ اس نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ان مسلح افراد کو پناہ دی جنہوں نے پیشہگام میں سیاحوں پر حملہ کرکے انہیں قتل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں تاریخی گراوٹ، دو دن میں 61 ہزار روپے فی تولہ کمی
اسپیشل کیس کی معلومات
بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے دعویٰ کیا کہ یہ دونوں مشتبہ افراد پیشہگام کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں دو ماہ قبل مسلح افراد نے 26 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ AN آئی اے کے ایک بیان کے مطابق، 'ان دونوں افراد نے دہشت گردوں کو خوراک، پناہ اور دیگر لاجسٹک سہولیات فراہم کیں، جنہوں نے سیاحوں کو قتل کیا تھا۔'
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، ملکی تاریخ میں پہلی بار 4 لاکھ روپے فی تولہ ہو گیا، نیا ریکارڈ قائم
گرفتار افراد کی شناخت
ایجنسی نے ان دونوں افراد کی شناخت پرویز احمد جوتھر اور بشیر احمد جوتھر کے طور پر کی، اور دعویٰ کیا کہ اس جوڑی نے 'اس حملے میں ملوث تین مسلح دہشت گردوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔'
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے کارکنوں نے علی امین گنڈا پور کو کہیں بھی جانے سے روک دیا
پاکستان پر الزامات
واضح رہے کہ نئی دہلی نے پاکستان پر اس حملے کی پشت پناہی کا الزام لگایا تھا، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت عوام کے سامنے پیش نہیں کیے گئے جبکہ اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی
22 اپریل کو ہونے والی ان ہلاکتوں کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان سفارتی سطح پر جوابی اقدامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بعدازاں دونوں ممالک کے درمیان چار روز جنگ ہوئی جس میں فضائی حملے اور میزائل استعمال کیے گئے۔ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے کر اس جنگ میں برتری حاصل کرلی تھی، جس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی مداخلت پر دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی۔








