چاہت خان نے اپنے ذومعنی اور نامناسب گانوں پر عجیب منطق پیش کردی
چاہت فتح علی خان کا پوڈکاسٹ میں انکشاف
لاہور (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر متنازع شہرت پانے والے گلوکار اور خود ساختہ انٹرٹینر چاہت فتح علی خان نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی ’’فنکارانہ‘‘ زندگی، گانوں اور خاص طور پر ذومنی اور فحش اشعار کے حوالے سے وضاحت پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: آج کی قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت کم ہوگئی، رانا ثنااللہ
فحاشی کے الزامات
پوڈکاسٹ میزبان آصف جٹ سے گفتگو کرتے ہوئے چاہت نے دعویٰ کیا کہ ’’میں بالکل بھی فحش نہیں ہوں‘‘۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی ویڈیوز میں خواتین کے ساتھ حد سے قریب ہونے کی کوشش کیوں کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ ماڈل و میزبان متھیرا بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ چاہت جب کسی شو یا تقریب میں آتے ہیں تو ’’کچھ زیادہ ہی بے باک ہوجاتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کی ترقیاتی منصوبوں بالخصوص صاف پانی سکیم کی بروقت تکمیل کی ہدایت
ایکٹنگ کا بہانہ
چاہت نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا کہ ’’یہ سب ایکٹنگ ہے۔ میں حقیقت میں کچھ غلط نہیں کر رہا، سب کچھ صرف ویڈیو کا حصہ ہوتا ہے۔‘‘ یعنی جو کچھ نظر آتا ہے، اس کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں، صرف ’’فنونِ لطیفہ‘‘ کا مظاہرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
مخالف آراء کا سامنا
جب میزبان نے ان کے مشہور (اور سوشل میڈیا پر بدنام) گانے ’’پاؤ پاؤ‘‘ کا ذکر چھیڑا، جسے دہرے معنی رکھنے والے اشعار کی وجہ سے خاصی تنقید کا سامنا رہا، تو چاہت نے ہنستے ہنستے اشعار دہرا دیے۔ پہلے تو انہوں نے کہا کہ ان اشعار میں کچھ بھی غلط نہیں، لیکن جب بحث گہری ہوئی تو بالآخر مان ہی لیا کہ ’’ہاں، مجھے اپنی زبان اور مواد پر تھوڑا دھیان دینا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں کو صرف طالبعلم نہیں مفکر، موجد اور ذمہ دار شہری کے طور پر بھی تسلیم کیا جائے: صدر کا عالمی یومِ تعلیم پر پیغام
فن کی حدود
چاہت فتح علی خان کے مطابق ان کے الفاظ کا مقصد صرف تفریح ہوتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک بڑی تعداد میں بچے، نوجوان اور عام لوگ ان کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، تو کیا فن کے نام پر کسی بھی حد کو پار کرنا درست ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا: سلمان اکرم راجا
تنقید کے جواب
چاہت نے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے طنز اور مذاق کے ذریعے بات کو ٹالنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے گیتوں اور رویے پر اٹھنے والے سوالات اب بھی قائم ہیں۔ کیا واقعی یہ سب صرف ’ایکٹنگ‘ ہے، یا پھر شوبز کے نام پر معیار کو قربان کیا جا رہا ہے؟
اخلاقیات کا سوال
نہ صرف سوشل میڈیا صارفین بلکہ اب خود میزبان اور انڈسٹری کی شخصیات بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ’’وائرل ہونے‘‘ کی دوڑ میں اخلاقیات کہیں پیچھے تو نہیں رہ گئیں؟








