ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو روسی صدر کیلئے ایک خط دیاہے جس میں حمایت کی درخواست کی گئی ہے
ایران کے وزیر خارجہ کی روس آمد
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی روس پہنچ چکے ہیں، جہاں ان کی روسی صدر پیوٹن سے ملاقات ہوئی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، ایرانی سپریم لیڈر نے انہیں روسی صدر کے لئے ایک خط دیا ہے، جس میں روس کی حمایت کی درخواست کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چھتوں پر سنائپرز اور ڈرونز کی نگرانی: امریکہ میں ووٹوں کی گنتی کا مرکز جس پر دنیا بھر کی توجہ مرکوز ہے
روس کی حمایت کی ضرورت
ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کو تاحال روس کی حمایت سے زیادہ کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ تہران چاہتا ہے کہ پیوٹن امریکہ اور اسرائیل کے خلاف زیادہ مضبوطی سے اس کا ساتھ دے۔ تاہم، ذرائع نے وضاحت نہیں کی کہ ایران کس نوعیت کی مدد چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیادہ صوبے بنانے سے انصاف کا حصول ممکن اور آمدنی میں اضافہ ہوگا، میاں عامر محمود
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر گفتگو
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور روس مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ پیوٹن متعدد بار ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں اور کہا ہے کہ ماسکو نے تنازع کے حل کے لیے اپنے خیالات دونوں فریقین تک پہنچا دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایران کے پرامن جوہری توانائی تک رسائی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
اسرائیل کی یقین دہانی
پیوٹن نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ماسکو کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ ایران کے شہر بوشہر میں جوہری پاور پلانٹ پر کام کرنے والے روسی ماہرین اسرائیلی فضائی حملوں سے محفوظ رہیں گے۔








