تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی
تیل کمپنیوں کی نئی پابندیاں
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پی ٹی آئی دور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے 310 گاڑیوں کی خلاف ضابطہ خریداری کا انکشاف
پیٹرولیم ڈیلرز کی تشویش
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق رہنما پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، شعیب خان، کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس کو طلب میں کم تیل سپلائی ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہری کو بھارتی شہری سے لڑائی پر سخت سزا سنادی گئی
پمپس کی کم سپلائی
رہنما ایسوسی ایشن، سمیر حسین، نے کہا کہ پمپس جو سپلائی مانگ رہے ہیں، اس سے 50 فیصد تک کم تیل مل رہا ہے۔ کمپنیاں یکم سے 15 جون کی یومیہ سیل سے زائد تیل نہیں دے رہی ہیں۔ کم تیل اسٹاکس والے کئی پمپس پر قلت ہے، جبکہ بیشتر پر سپلائی معمول پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس منشیات فروشوں کی سہولت کار؟ سینئر صحافی نے انتہائی سنگین انکشاف کردیا
پی ایس او کی حکمت عملی
پی ایس او ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس او نے اپنی اوسط یومیہ فروخت سے زیادہ تیل نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اور تیل سپلائی معمول پر رکھنے کیلئے حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 کروڑ لیٹرز کیساتھ جہاز آج فجیرا سے کراچی پورٹ روانہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے دراصل کتنے رافیل طیارے گرائے ہیں؟ نئے اعداد و شمار سامنے آ گئے
عالمی مارکیٹ کے اثرات
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی سپلائی جہازوں کے فریٹ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جہازوں کے فریٹ میں اضافے سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
کرایوں میں اضافہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 جون کو خلیج فارس سے تیل ترسیل جہاز کا کرایہ تقریباً 14 ڈالر فی ٹن تھا، جو آج تقریباً 21 ڈالر ہو گیا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 76 ڈالرز سے بڑھ کر 82 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔








