تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی
تیل کمپنیوں کی نئی پابندیاں
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے پی: سرکاری عہدہ رکھنے والوں اور غیر فعال کارکنان کو پارٹی میں شامل نہ کرنے کی ہدایات
پیٹرولیم ڈیلرز کی تشویش
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق رہنما پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، شعیب خان، کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس کو طلب میں کم تیل سپلائی ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی ’’ آف کلر ‘‘نظر آئے
پمپس کی کم سپلائی
رہنما ایسوسی ایشن، سمیر حسین، نے کہا کہ پمپس جو سپلائی مانگ رہے ہیں، اس سے 50 فیصد تک کم تیل مل رہا ہے۔ کمپنیاں یکم سے 15 جون کی یومیہ سیل سے زائد تیل نہیں دے رہی ہیں۔ کم تیل اسٹاکس والے کئی پمپس پر قلت ہے، جبکہ بیشتر پر سپلائی معمول پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشن امپاسیبل 8 نے ریلیز سے قبل ہی 12 ملین ڈالرز کا بزنس کرلیا، مگر کیسے؟
پی ایس او کی حکمت عملی
پی ایس او ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس او نے اپنی اوسط یومیہ فروخت سے زیادہ تیل نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اور تیل سپلائی معمول پر رکھنے کیلئے حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 کروڑ لیٹرز کیساتھ جہاز آج فجیرا سے کراچی پورٹ روانہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم میں اتنی غلطیاں ہیں کہ حکومت کو 27 ویں ترمیم لانا ہی پڑے گی: بیرسٹر علی ظفر
عالمی مارکیٹ کے اثرات
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی سپلائی جہازوں کے فریٹ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جہازوں کے فریٹ میں اضافے سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
کرایوں میں اضافہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 جون کو خلیج فارس سے تیل ترسیل جہاز کا کرایہ تقریباً 14 ڈالر فی ٹن تھا، جو آج تقریباً 21 ڈالر ہو گیا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 76 ڈالرز سے بڑھ کر 82 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔








