تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی
تیل کمپنیوں کی نئی پابندیاں
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایرانی بچے بھی خدا کے بچے ہیں
پیٹرولیم ڈیلرز کی تشویش
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق رہنما پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، شعیب خان، کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس کو طلب میں کم تیل سپلائی ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق برطانوی فوجی پر جاسوسی کا الزام: “میں ایران کی انٹیلی جنس کو برطانیہ میں بے نقاب کرنا چاہتا تھا”
پمپس کی کم سپلائی
رہنما ایسوسی ایشن، سمیر حسین، نے کہا کہ پمپس جو سپلائی مانگ رہے ہیں، اس سے 50 فیصد تک کم تیل مل رہا ہے۔ کمپنیاں یکم سے 15 جون کی یومیہ سیل سے زائد تیل نہیں دے رہی ہیں۔ کم تیل اسٹاکس والے کئی پمپس پر قلت ہے، جبکہ بیشتر پر سپلائی معمول پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور عراق مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کروانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں: عبداللہ گل
پی ایس او کی حکمت عملی
پی ایس او ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس او نے اپنی اوسط یومیہ فروخت سے زیادہ تیل نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اور تیل سپلائی معمول پر رکھنے کیلئے حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 کروڑ لیٹرز کیساتھ جہاز آج فجیرا سے کراچی پورٹ روانہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کے پاس ایک مضبوط اور مستند ڈیٹا بیس موجود ہے، مریم نواز
عالمی مارکیٹ کے اثرات
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی سپلائی جہازوں کے فریٹ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جہازوں کے فریٹ میں اضافے سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
کرایوں میں اضافہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 جون کو خلیج فارس سے تیل ترسیل جہاز کا کرایہ تقریباً 14 ڈالر فی ٹن تھا، جو آج تقریباً 21 ڈالر ہو گیا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 76 ڈالرز سے بڑھ کر 82 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔








