تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی
تیل کمپنیوں کی نئی پابندیاں
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) تیل کمپنیوں نے یومیہ فروخت سے زائد پیٹرول دینے پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی
پیٹرولیم ڈیلرز کی تشویش
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق رہنما پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، شعیب خان، کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپس کو طلب میں کم تیل سپلائی ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کو ’’سیکیورٹی تباہی‘‘ کی طرف لے جا رہا ہے۔۔ اپوزیشن لیڈر نیتن یاہو حکومت پر برس پڑے
پمپس کی کم سپلائی
رہنما ایسوسی ایشن، سمیر حسین، نے کہا کہ پمپس جو سپلائی مانگ رہے ہیں، اس سے 50 فیصد تک کم تیل مل رہا ہے۔ کمپنیاں یکم سے 15 جون کی یومیہ سیل سے زائد تیل نہیں دے رہی ہیں۔ کم تیل اسٹاکس والے کئی پمپس پر قلت ہے، جبکہ بیشتر پر سپلائی معمول پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں میں چھپا ایسا بہترین فیچر جس کا علم بیشتر افراد کو نہیں
پی ایس او کی حکمت عملی
پی ایس او ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس او نے اپنی اوسط یومیہ فروخت سے زیادہ تیل نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اور تیل سپلائی معمول پر رکھنے کیلئے حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 7 کروڑ لیٹرز کیساتھ جہاز آج فجیرا سے کراچی پورٹ روانہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: میکسویل کی شاندار بیٹنگ جس نے میچ پاکستانی اننگز سے پہلے ہی ختم کر دیا
عالمی مارکیٹ کے اثرات
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی سپلائی جہازوں کے فریٹ میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جہازوں کے فریٹ میں اضافے سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
کرایوں میں اضافہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ 12 جون کو خلیج فارس سے تیل ترسیل جہاز کا کرایہ تقریباً 14 ڈالر فی ٹن تھا، جو آج تقریباً 21 ڈالر ہو گیا ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 76 ڈالرز سے بڑھ کر 82 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔








