خیبرپختونخوا کا بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا : سلمان اکرم راجہ
سلمان اکرم راجہ کا بیان
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ( کے پی ) کا بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا کیونکہ آج امکان تھا کہ اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کا 24 دسمبر کو گورنر ہاوس میں مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان
جیل کی صورتحال پر تنقید
نجی ٹی وی سماء کے مطابق اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کے دن، پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے جیل حکام کے رویے اور ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر سخت تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا صوابی موٹر وے بند کرنے کا اعلان
میڈیا سے گفتگو
جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ 25 مارچ کے بعد میری صرف دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ملاقاتیں نہ کرانا سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے جبکہ بانی کے بنیادی حقوق کا کسی کو کوئی پاس نہیں ہے اور عدالتی احکامات کا بھی کسی کوئی پاس نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیک چینل مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کون کر رہا ہے ، کیا تحریک انصاف کو کسی رعایت یا ڈیل کی پیشکش کی گئی۔۔؟ انصار عباسی نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے
عدالت کا کردار
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ عدالتیں خود اپنے احکامات پر عمل کرانے سے گریزاں ہیں، جیل قانون، انتظامیہ کا رویہ اور عدلیہ کا کردار سب کے سامنے ہے، جن کیسز میں بانی کا وکیل ہوں ان میں بھی پیش نہیں ہونے دیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کے لیے آغازِ سحر کمیونٹی کی جانب سے روزگار کے سامان کی فراہمی، ویڈیو
لاہور میں ضمانت کی منسوخی
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں بانی کی 9 مئی کیسز میں ضمانت منسوخ ہونے پر افسوس ہے، سپریم کورٹ جائیں گے، اسی نظام سے ٹکراتے رہیں گے اور ہم موجودہ نظام کو شرم دلاتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد الحرام میں بالائی منزل سے کودنے والے شخص کو سیکیورٹی گارڈ نے بچا لیا، ویڈیو وائرل
بجٹ کے حوالے سے رائے
ان کا کہنا تھا کہ کے پی بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا، آج امکان تھا بانی سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں، جب تک ممکن تھا ہم بجٹ روک سکتے تھے، 30 جون تک وقت تھا تب تک بانی کی ہدایات بھی آجاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا؟
وفاقی حکومت کا ممکنہ اقدام
انہوں نے کہا کہ یہ ممکن تھا وفاقی حکومت فنانشل ایمرجنسی کا نفاذ کرتی، کے پی حکومت کے خاتمے کے لیے بانی کی کوئی ہدایات نہیں تھیں، ہم سمجھتے ہیں بجٹ پر ہمیں مشاورت جاری رکھنی چاہیے تھی۔
سیاسی کمیٹی کا فیصلہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی میں سوالات اٹھے ہیں بجٹ کیوں 23 تاریخ کو پیش ہوا ہے، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا جتنا ممکن ہو سکے 30 تاریخ تک مشاورت ہونی چاہیے، کے پی اسمبلی نے جو کیا وہ بظاہر لگتا ہے عجلت میں کی








