خیبرپختونخوا کا بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا : سلمان اکرم راجہ
سلمان اکرم راجہ کا بیان
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ( کے پی ) کا بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا کیونکہ آج امکان تھا کہ اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی قونصل جنرل کا جیوفیک ہسپتال لاہور کا دورہ، سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی
جیل کی صورتحال پر تنقید
نجی ٹی وی سماء کے مطابق اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کے دن، پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے جیل حکام کے رویے اور ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر سخت تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیں: کئی بار دھوکہ ملا، اب ڈپریشن کا شکار اور تنہا ہوں، اداکارہ خوشبو خان کا انکشاف
میڈیا سے گفتگو
جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ 25 مارچ کے بعد میری صرف دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ملاقاتیں نہ کرانا سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے جبکہ بانی کے بنیادی حقوق کا کسی کو کوئی پاس نہیں ہے اور عدالتی احکامات کا بھی کسی کوئی پاس نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب سے سینٹ کی خالی نشست پر پولنگ 29 مئی کو ہوگی
عدالت کا کردار
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ عدالتیں خود اپنے احکامات پر عمل کرانے سے گریزاں ہیں، جیل قانون، انتظامیہ کا رویہ اور عدلیہ کا کردار سب کے سامنے ہے، جن کیسز میں بانی کا وکیل ہوں ان میں بھی پیش نہیں ہونے دیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: عجیب کردار تھے، ”اسپغول تے کجھ نہ پھول“ ظاہر کرتے کہ بڑے سادہ اور ایماندار ہیں، ہارورڈ یونیورسٹی سے لی گئی ڈگری بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی تھی۔
لاہور میں ضمانت کی منسوخی
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں بانی کی 9 مئی کیسز میں ضمانت منسوخ ہونے پر افسوس ہے، سپریم کورٹ جائیں گے، اسی نظام سے ٹکراتے رہیں گے اور ہم موجودہ نظام کو شرم دلاتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جنید اکبر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی
بجٹ کے حوالے سے رائے
ان کا کہنا تھا کہ کے پی بجٹ 23 تاریخ کو پاس کرنا ضروری نہیں تھا، آج امکان تھا بانی سے کوئی واضح ہدایات مل جاتیں، جب تک ممکن تھا ہم بجٹ روک سکتے تھے، 30 جون تک وقت تھا تب تک بانی کی ہدایات بھی آجاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصر کی شاندار ترقی کے قصے،پاکستان کی فخر و طاقت کے ساتھ
وفاقی حکومت کا ممکنہ اقدام
انہوں نے کہا کہ یہ ممکن تھا وفاقی حکومت فنانشل ایمرجنسی کا نفاذ کرتی، کے پی حکومت کے خاتمے کے لیے بانی کی کوئی ہدایات نہیں تھیں، ہم سمجھتے ہیں بجٹ پر ہمیں مشاورت جاری رکھنی چاہیے تھی۔
سیاسی کمیٹی کا فیصلہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی میں سوالات اٹھے ہیں بجٹ کیوں 23 تاریخ کو پیش ہوا ہے، سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا جتنا ممکن ہو سکے 30 تاریخ تک مشاورت ہونی چاہیے، کے پی اسمبلی نے جو کیا وہ بظاہر لگتا ہے عجلت میں کی








