جب اسلام آباد تعمیر ہو چکا تو راولپنڈی کی حیثیت تھوڑی کم ہو گئی، تاہم آج بھی بڑا شہر ہے جہاں دور جدید کی سہولتوں کیساتھ قدیم محلے اور عمارتیں ہیں
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 167
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ
اسلام آباد کی تعمیر
راولپنڈی کے قریب ہی 1960ء کی دہائی میں پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد کی تعمیر شروع ہوئی تھی۔ جب سرکاری دفاتر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوتے تھے تو ان کے عملے کو پہلے راولپنڈی میں ہی ٹھہرایا جاتا تھا، پھر ان کے مستقبل کے دفاتر اور رہائش گاہیں تعمیر ہوجانے پر یہ لوگ مستقل طور پر اسلام آباد میں منتقل ہو جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دھی رانی پروگرام کے تحت 4957 درخواستیں جمع، 1500 غریب بچیوں کی شادی کیلئے فنڈز جاری
راولپنڈی کی حیثیت
جب اسلام آباد تعمیر ہو چکا تو راولپنڈی کی اپنی حیثیت تھوڑی کم تو ہو گئی تھی، تاہم یہ آج بھی وطن عزیز کا ایک بڑا شہر ہے جہاں دور جدید کی تمام سہولتوں کے ساتھ ساتھ قدیم محلے اور عمارتیں بھی نظر آ جاتی ہیں۔ ریلوے اور پنجاب حکومت کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز ہونے کے وجہ سے یہاں بہت سے سرکاری دفاتر موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی سیاست میں ہلچل، جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی مستعفی
تعلیم اور صحت
اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے اعتبار سے بھی یہاں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ بہت سارے سرکاری اور نجی ہسپتال اور کلینک وغیرہ بن گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں یونیورسٹیاں اور بینکوں کے مقامی مرکزی دفاتر بھی یہاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے ہیں اور کم از کم پانچ مختلف یونیورسٹیاں، زرعی یونیورسٹی اور کچھ میڈیکل کالج بھی ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی خواتین کی پہلی یونیورسٹی یعنی فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی بھی اسی شہر میں بنی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ملزمان کو گنجا کرکے ویڈیو چلانے کیس: ایسا کوئی واقعہ دوبارہ ہوا تو متعلقہ ڈی پی او ذمہ دار ہوگا، عدالت
مواصلاتی نظام
راولپنڈی سے اسلام آباد کے بیچ مواصلات اور نقل حمل کا بہت مؤثر اور بہترین نظام ہے۔ ذرائع آمدورفت کی ہمہ وقت اور مسلسل سہولت کی وجہ سے اسلام آباد میں ملازمتیں اختیار کرنے والے اکثر لوگ اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کے گرد و نواح میں مستقل اقامت کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ یہاں رہائش گاہوں کے کرائے اور مصارف زندگی اسلام آباد سے کہیں کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے شہباز شریف اور مودی کے درمیان ڈنر کی تجویز دے دی
اسلام آباد کا مقام
اسلام آباد، دارالخلافہ، عجب سیکٹر زدہ کچھ لوگ اس بستی میں رہتے ہیں کہ جیسے گول کیپر اپنی اپنی "ڈی" میں رہتے ہیں۔ چلے گا کس طرح اب عشق لیلیٰ اور مجنوں میں۔ وہ سیکٹر "ای" میں رہتی ہے، یہ سیکٹر "جی" میں رہتے ہیں۔ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت اور صدر مقام ہے جسے راولپنڈی کے قریب مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں ایک اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ بسایا گیا ہے۔
بنیادی اجزاء
یہاں ایوان اقتدار ہے، صدر اور وزیر اعظم پاکستان کے دفاتر اور رہائشوں کے علاوہ قومی اسمبلی، سینٹ، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور تقریباً پاکستان کے سب سرکاری اداروں کے صدر دفاتر موجود ہیں۔ یہ انتہائی صاف ستھرا اور جدید شہر ہے جو ریلوے اور موٹروے کے ذریعے پاکستان کے سبھی علاقوں سے رابطے میں ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کا مشترکہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








