نیویارک میئر پرائمری، کومو پر ممدانی کو برتری حاصل
نیویارک میئر کے لیے ڈیموکریٹک پرائمری کے ابتدائی نتائج
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں نیویارک میئر کے لیے ڈیمویرکریٹک پرائمری کے ابتدائی نتائج کے مطابق، اسمبلی رکن زہران ممدانی کو سابق گورنر نیویارک اینڈریو کومو پر غیرمعمولی برتری حاصل ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلز ٹیکس واجبات کے تعین کے بغیرمقدمات اور گرفتاریاں غیرقانونی قرار،سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا
ووٹنگ کا عمل
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ڈیموکریٹک پرائمری میں ووٹنگ کا عمل رات 9 بجے ختم ہوگیا۔ تاہم، نتائج کا اعلان چند روز میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیزل اور پیٹرول کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی کمی کر دی گئی
رینکڈ چوائس ووٹنگ
فاتح کا چناؤ رینکڈ چوائس کے تحت ہوتا ہے جس میں ووٹر کا یہ حق ہوتا ہے کہ وہ سرفہرست 5 امیدواروں کی رینکنگ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ سنوکر، محمد آصف نے تیسرا گروپ میچ بھی جیت لیا
ووٹنگ کے اعداد و شمار
نیویارک سٹی بورڈ آف الیکشنز کے مطابق منگل کو شام ساڑھے 7 بجے تک نیویارک کے 9 لاکھ 30 ہزار سے زائد شہریوں نے ووٹ ڈالا۔ تاہم، امریکی ٹی وی کے مطابق رات 9 بجے تک تقریباً 11 لاکھ شہریوں نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہ تعداد سن 2021 کے میئر الیکشنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ؛ مکان کی چھت گرنے سے 3 بچے جاں بحق
زہران ممدانی کی حمایت
کوئنز علاقے کے رکن اسمبلی زہران ممدانی کو نوجوان ووٹرز کی خاص طور پر حمایت حاصل ہے جو آخری روز لانگ آئی لینڈ سٹی میں انتخابی مہم میں مصروف رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹر راشد لطیف کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا
زہران ممدانی کے وعدے
33 برس کے ممدانی ڈیموکریٹک سوشلسٹ تصور کیے جاتے ہیں اور پچھلے چند ماہ میں تیزی سے ابھر کر صف اول میں آئے ہیں۔ ممدانی نے سٹی بس اور چائلڈ کیئر کو مفت کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔
انہوں نے 2 لاکھ ایفورڈایبل گھر اور سٹی کی ملکیت گروسری سٹور بنانے کا بھی وعدہ کیا تھا، جس کے لیے وہ کارپوریٹ ٹیکس بڑھائیں گے اور زیادہ کمانے والوں پر براہ راست 2 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
موجودہ میئر کی حیثیت
اس بار الیکشن میں میئر ایریک ایڈمز آزاد امیدوار کے طور پر مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ نیویارک میں میئر کی دوڑ کے ساتھ سٹی پبلک ایڈووکیٹ اور کمپٹرولر آفسز کے لیے عہدیداروں کا بھی چناؤ کیا جا رہا ہے، جس میں جینیفر راجکمار بھی میدان میں ہیں۔








