ایرانی پارلیمنٹ نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دیدی
ایرانی پارلیمنٹ کا اہم اقدام
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی پارلیمنٹ نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: 2011 میں لاہور میں دو نوجوان لڑکوں کے قتل میں ملوث امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی اصل کہانی
بل کی تفصیلات
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے طرز عمل پر اس کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مذہبی امور کا 67 ہزار عازمین کے حج پر جانے یا نہ جانے کے سوال کا جواب دینے سے گریز
کمیٹی کا بیان
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے طویل سیشن میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بل کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: موسم کی خرابی، کراچی ایئر پورٹ سے جانے والی ملکی و غیرملکی 12 پروازیں منسوخ
حتمی منظوری
ترجمان نے کہا کہ اس اقدام کی حتمی منظوری ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل دے گی اور اگر یہ بل کونسل سے منظور ہوتا ہے تو ایران کی حکومت آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ؛ حسان نیازی کی ملٹری کسٹڈی، کورٹ مارشل کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر
متوقع اثرات
اس اقدام کے تحت ایران اپنی جوہری سائٹس پر کیمروں کی تنصیب نہیں کرے گا اور عالمی انسپیکشن کے لیے عالمی ادارے کے انسپکٹرز کو بھی اجازت نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ رپورٹس بھی جمع نہیں کرائی جائیں گی جب تک کہ ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق سکیورٹی کی ضمانت نہ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں دوسرے روز بھی دفعہ 144 نافذ
امریکی حملے کا پس منظر
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو بی ٹی بمبار طیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کی تنصیبات شامل ہیں۔
ایران کا مؤقف
امریکی حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور اب ایران کبھی ایٹم بم نہیں بنا سکے گا، البتہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس افزودہ شدہ یورینیم محفوظ ہے۔








