ایرانی پارلیمنٹ نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دیدی
ایرانی پارلیمنٹ کا اہم اقدام
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی پارلیمنٹ نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کس طرح برباد ہوئی؟ آڈیٹر جنرل پاکستان کی 10 سالہ رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
بل کی تفصیلات
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے طرز عمل پر اس کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دودھ مہنگا کردیا گیا، ایک لٹر قیمت میں 20 روپے اضافہ
کمیٹی کا بیان
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے طویل سیشن میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بل کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی پنجاب کے 15 ہزار سے زائد نوجوانوں کی پی ایم وائی پی-لاہور قلندرز ٹرائلز میں بھرپور شرکت
حتمی منظوری
ترجمان نے کہا کہ اس اقدام کی حتمی منظوری ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل دے گی اور اگر یہ بل کونسل سے منظور ہوتا ہے تو ایران کی حکومت آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کے لیے کتنے افراد نے بطور سول ڈیفنس رضاکار رجسٹریشن کروائی؟ جانیے
متوقع اثرات
اس اقدام کے تحت ایران اپنی جوہری سائٹس پر کیمروں کی تنصیب نہیں کرے گا اور عالمی انسپیکشن کے لیے عالمی ادارے کے انسپکٹرز کو بھی اجازت نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ رپورٹس بھی جمع نہیں کرائی جائیں گی جب تک کہ ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق سکیورٹی کی ضمانت نہ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونا سستا ہوگیا
امریکی حملے کا پس منظر
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو بی ٹی بمبار طیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کی تنصیبات شامل ہیں۔
ایران کا مؤقف
امریکی حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور اب ایران کبھی ایٹم بم نہیں بنا سکے گا، البتہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس افزودہ شدہ یورینیم محفوظ ہے۔








