ایرانی پارلیمنٹ نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دیدی
ایرانی پارلیمنٹ کا اہم اقدام
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی پارلیمنٹ نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: اوور ہیڈ برجز کے نیچے صفائی، گرین بیلٹ اور پلے ایریاز بنائے جائیں
بل کی تفصیلات
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے طرز عمل پر اس کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے پانی اور وسائل کو لوٹا جارہا ہے، چولستان میں کینال بنانا ناانصافی ہے: لطیف پلیجو
کمیٹی کا بیان
ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے طویل سیشن میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بل کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کو سکھ کا سانس لینے دو، واپس جا کر کے پی کے لوگوں کی داد رسی بھی کر لو: عظمیٰ بخاری
حتمی منظوری
ترجمان نے کہا کہ اس اقدام کی حتمی منظوری ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل دے گی اور اگر یہ بل کونسل سے منظور ہوتا ہے تو ایران کی حکومت آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بنچ نے 26ویں ترمیم کے فیصلے تک فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت موخر کرنے کی درخواست خارج کردی
متوقع اثرات
اس اقدام کے تحت ایران اپنی جوہری سائٹس پر کیمروں کی تنصیب نہیں کرے گا اور عالمی انسپیکشن کے لیے عالمی ادارے کے انسپکٹرز کو بھی اجازت نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ رپورٹس بھی جمع نہیں کرائی جائیں گی جب تک کہ ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق سکیورٹی کی ضمانت نہ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کس طرح کی پالیسیاں بنا رہی ہے؟پالیسیوں سے 60سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے، آئینی بنچ کے سپر ٹیکس سے متعلق کیس میں ریمارکس
امریکی حملے کا پس منظر
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو بی ٹی بمبار طیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کی تنصیبات شامل ہیں۔
ایران کا مؤقف
امریکی حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور اب ایران کبھی ایٹم بم نہیں بنا سکے گا، البتہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس افزودہ شدہ یورینیم محفوظ ہے۔








