آپ لوگوں سے زیادتی کر رہے ہیں، اغوا کا کیس ہوتا ہے ہائی کورٹ میں لاپتہ کی درخواست دائر کردیتے ہیں، سندھ ہائی کورٹ وکیل پر برہم
سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ نرس کی بازیابی کی درخواست
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے لاپتہ نرس کی بازیابی کی درخواست پر وکیل پر برہمی کا اظہار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ آپ لوگ ہائیکورٹ کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں اور اسے تباہ کر رہے ہیں۔ جب اغوا کا کیس ہوتا ہے تو آپ لوگ ہائیکورٹ میں لاپتہ کی درخواست دائر کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جیل میں موجود لوگوں کی اپیلیں التوا میں پڑ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری
درخواست کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں اورنگی ٹاؤن سے لاپتہ نرس کی بازیابی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ نرس کے والد نے درخواست میں بتایا کہ 11 فروری 2025 کو بیٹی بسمہ طارق روڈ پر مریض کو چیک کرنے گئی تھی، اور اسی رات سے لڑکی غائب ہے۔ تاحال اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گمشدگی کا مقدمہ تھانہ اقبال مارکیٹ میں درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف قومی ٹیم کی کوچنگ سے بھی الگ ہوگئے
عدالت کی برہمی
بلاجواز درخواست دائر کرنے پر عدالت نے وکیل پر اظہار برہمی کیا۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ یہ اغوا کا کیس ہے اور آپ نے مقدمہ بھی درج کرا لیا۔ وکیل نے کہا کہ کسی اغوا کار نے درخواست گزار کو کوئی کال نہیں کی، جس پر جسٹس عمر سیال نے کہا کہ حالیہ تحقیقات پولیس کر رہی ہے، اس کے باوجود درخواست دائر کی گئی۔ اس طرح کی درخواستیں دنیا میں منفی تاثر پیدا کرتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے ہائیکورٹ کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
کیس کا فیصلہ
عدالت نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ریگولر بنچ کا ہے اور وہی اس کا فیصلہ کرے گا۔ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔








