عمران خان ڈیل نہیں کریں گے، کیسز میں کچھ بھی نہیں: ملک احمد بھچر
اہم بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے کہا ہے کہ عمران خان ڈیل نہیں کریں گے، ان کے کیسز میں کچھ بھی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کی پہلی کیس لسٹ جاری
بجٹ کی صورتحال
نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کے میڈیا ہال میں گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ ابھی بجٹ کا سیشن چل رہا ہے اور ان کی حرکات سامنے آرہی ہیں۔ پنجاب کے صحت کے معاملے میں یہ غیر سنجیدہ ہیں، حکومت نے بجٹ میں ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے ایک روپیہ کا اضافہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کھلے مین ہول میں گر کر کمسن بچے جاں بحق، وزیر اعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس، رپورٹ طلب کر لی
ہسپتالوں کی حالت
انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتالوں کو ادویات کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، پھر میو ہسپتال جیسے حالات ہی تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں ہوں گے۔ پی آئی سی کیلئے ایک روپیہ بھی نہیں بڑھایا گیا، چلڈرن ہسپتال کیلئے بھی ایک روپیہ نہیں بڑھایا گیا، تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے پچھلے سال والا ہی بجٹ رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کی تازہ جوابی کارروائی میں 415 افغان طالبان ہلاک، 580 زخمی ہوگئے
جنوبی پنجاب کا بجٹ
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ نشتر ہسپتال ملتان کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے، جنوبی پنجاب کے بجٹ میں 17 کروڑ روپے کی کمی کی گئی ہے، کئی ہسپتالوں کے بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے صرف انفراسٹرکچر پر زور دیا ہے، انفراسٹرکچر میں گھپلا زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رافیل طیاروں پر بھارت اور فرانس آمنے سامنے، فرانسیسی ماہرین کو معائنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا
پولیس اور مزید کمی
ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ پولیس کے بجٹ میں کمی کر لیں، انفراسٹرکچر کے بجٹ میں کمی کر لیں۔ وزیر خزانہ نے بجٹ پڑھ دیا، تب ان کو خامیوں کا پتہ چلا، یہ 26 ویں ترمیم جیسی کالی ترامیم لے کر آرہے ہیں، عدالتیں خود قید ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل اجلاس: پاکستان کا غزہ میں مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ
مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کا مستقبل
ان کا مزید کہنا تھا کہ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میانوالی کو بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی نے یہ ہسپتال بنایا اس لیے بند کیا جا رہا ہے۔
احتجاج کا اعلان
اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ڈیل نہیں کریں گے، ان کے کیسز میں کچھ بھی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اسمبلی آئیں تو بھرپور احتجاج کریں گے، وزیراعلیٰ پنجاب تقریر کریں گی تو ہم گونگوں کی طرح نہیں بیٹھیں گے۔ اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج حق ہے، احتجاج ہوگا۔








