حکومت تمام معاملات پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے: رانا ثنا اللہ
اسلام آباد میں سیاسی ترقی
وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے سیاسی معاملات میں غیر شرکت کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ حکومت تمام معاملات پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں دفاع کے لیے کتنے ارب روپے مختص کیے گئے؟
اپوزیشن کے ساتھ بات چیت
نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق، اپوزیشن ممبران سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے یکم فلور پر اپوزیشن کو ایک کھلی دعوت دی تھی۔ انہوں نے مذاکرات اور بات چیت کے لئے اپوزیشن کو بلایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امارات کی حمایت یافتہ RSF کے سوڈان میں مظالم جاری، تازہ حملے میں 24 افراد جاں بحق
وزیر اعظم کی پیشکش
رانا ثنا اللہ نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم نے اپوزیشن کو کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے تو سپیکر چیمبر میں آئیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر اپوزیشن سپیکر چیمبر میں آتی ہے تو میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں آؤں گا۔ جمہوریت بات چیت کے ذریعے چلتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کی درخواست، این سی سی آئی اے کو 15 دسمبر تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم
سیلز ٹیکس پر بات چیت
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی، اور کہا کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس کا نفاذ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبال نکلانے کیلئے کنویں میں اترا، کوشش کے باوجود ہر بار نیچے گر جاتا، گہری ہوتی شام نے اندھیرا کر دیا،قسمت اچھی کہ کمپنی کے ملازمین ادھر آن نکلے
مراعات کا تحفظ
انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس کو ایک سال کے لئے موخر کرنے کا کہا گیا تھا۔ ایک سال کے دوران فاٹا اور پاٹا سے متعلق کمیٹی کی میٹنگز کا انعقاد ہوا، جس کے نتیجے میں انکم ٹیکس چھوٹ سمیت دیگر مراعات برقرار رکھی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس جاری
صنعتی خدشات
رانا ثنا اللہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک بھر کی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے کچھ مراعات پر تشویش ہے۔ خیبر پختونخوا سے ممبران اسمبلی کے ساتھ آج ایک میٹنگ ہوئی ہے۔
مذاکرات کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ سیاسی درجہ حرارت میں کمی صرف میز پر بیٹھ کر بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھ رہیں تو اس کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی ہیں۔








