گورنر سندھ نے دفتر کی تالہ بندی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
گورنر سندھ کا فیصلے کے خلاف اقدام
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے دفتر کی تالہ بندی سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ سندھ کا دریائے سندھ پر نئے سکھر-روہڑی پل بنانے کا فیصلہ
درخواست کی تفصیلات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے وکیل نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں عدالت عالیہ سندھ کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پرنسپل سیکرٹری سمیت کسی نے قائم مقام گورنر اویس قادرشاہ کو اجلاس سے نہیں روکا، ویڈیو شواہد موجود ہیں کہ قائم مقام گورنر کو مکمل پروٹوکول دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ (پروگرام ہوسٹ) صرف تب تک اچھے رہتے ہیں جب تک انٹرویو ختم نہ ہو، میں انہیں اندر سے جانتا ہوں، عاطف اسلم نے پروگراموں میں شرکت کے لیے زیادہ معاوضہ مانگنے کی وجہ بتا دی۔
قائم مقام گورنر کا موقف
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ قوانین کے مطابق قائم مقام گورنر کو گورنر ہاؤس تک رسائی نہیں دی جاسکتی، سندھ ہائیکورٹ نے ہمارے مؤقف سنے بغیر ہی درخواست نمٹا دی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل جاری، فی تولہ سونے کی قیمت میں 8700 روپے کمی
سپریم کورٹ کا ردعمل
گورنر سندھ کی درخواست پر سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے کہا کہ یہ آئینی درخواست ہے، اس کی سماعت اسلام آباد میں آئینی بینچ کے روبرو ہوگی۔
ماضی کے واقعات
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے قائم مقام گورنر اویس شاہ نے کامران ٹیسوری پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بیرون ملک دورے کے دوران دفتر کی چابیاں ساتھ لے گئے ہیں، جب کہ انہوں نے دفتر میں رسائی کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رابطہ کیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے اویس شاہ کو گورنر ہاؤس کے دفتر میں داخلے کی اجازت دی تھی۔








