دہشت گردی مشترکہ خطرہ، سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے: خواجہ آصف
وزیر دفاع کی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں خطاب
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی پوری دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ ہے، اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا یہی رویہ رہا تو پھر گورنر راج کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں: عظمیٰ بخاری
دوطرفہ ملاقاتیں
نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع اجلاس میں شرکت کی اور تاجکستان، ایران، قازقستان اور چین کے وزرائے دفاع سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سٹیٹسن سینڈرز نے بطور نئے امریکی قونصل جنرل ذمہ داریاں سنبھال لیں، تقریب میں گورنر پنجاب کی خصوصی شرکت
اسرائیل کے حملوں کی مذمت
اس موقع پر پاکستان کے وزیر دفاع نے اسرائیل کے ایران پر غیر قانونی اور بلا اشتعال حملوں کی شدید مذمت کی اور غزہ میں انسانی بحران اور اسرائیلی بربریت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے فلسطینی شہریوں پر حملے بند کرنے اور فوری مستقل جنگ بندی پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں وزیراعظم شہبازشریف کے وفد میں شامل خاتون رکن کی ماضی میں اسرائیلی سفارتکار سے ملاقات، فواد چوہدری کا دعویٰ
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں
اجلاس میں انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی مشترکہ خطرہ ہے جس سے اجتماعی طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ تمام ریاستیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عارفہ زہرا کی سماجی اور تعلیمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: وزیر اعلیٰ پنجاب
پاکستان کا عزم
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے، جعفر ایکسپریس حملوں کے منصوبہ سازوں، مالی معاونین، سرپرستوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جھوٹ پہ جھوٹ۔۔۔ بھارتی گودی میڈیا اور بھارتی سپانسرڈ فتنہ الخوارج کی سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مہم پھر بے نقاب ہو گئی
کشمیر اور فلسطین کے مسائل
انہوں نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے پرامن حل کے لیے مذاکرات، ثالثی اور سفارتی حکمت عملی اختیار کی جائے، عالمی برادری دیرینہ حل طلب تنازعات مسئلہ کشمیر، فلسطین کا پُرامن حل یقینی بنائے۔
یہ بھی پڑھیں: 25 اکتوبر تک آئینی ترمیم: نہ ضروری، نہ مجبوری – بلاول بھٹو
ایس سی او میں پاکستان کا کردار
انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان کا ایس سی او میں فعال کردار علاقائی استحکام اور مشترکہ تعاون کے فروغ میں اہم ستون ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور، ایس سی او چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کو علاقائی خوشحالی اور ایس سی او وژن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
خطے کی پائیدار خوشحالی
پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ خطے کی پائیدار خوشحالی کے مشترکہ وژن کے حصول کیلئے پرامن، مستحکم افغانستان ضروری ہے۔








