سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی: عظمٰی بخاری
امن و امان کی یقینی فراہمی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی لاکھوں عزادار امام حسینؑ کی یاد میں مجالس اور جلوسوں میں شریک ہوں گے، جبکہ اہلِ سنت کی جانب سے بھی بعض تقریبات منعقد ہوں گی۔ ایران-اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں اس بار محرم کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، اس لیے تمام مکاتبِ فکر کے علماء سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امن، رواداری اور بھائی چارے کے پیغام کو فروغ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کو انصاف کی رسائی میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے: چیف جسٹس پاکستان
سیکیورٹی انتظامات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ محرم کے دوران پنجاب بھر میں 38 ہزار مجالس اور 9 ہزار سے زائد جلوسوں کا انعقاد متوقع ہے۔ ان کی سیکیورٹی کے لیے 2 لاکھ 38 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ 35 ہزار سے زائد رضاکار بھی سیکیورٹی ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔ ڈولفن فورس اور سی ٹی ڈی سمیت دیگر ادارے بھی متحرک رہیں گے۔ حکومت نے کوڈ آف کنڈکٹ جاری کردیا ہے جس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی اور سائبر سیکیورٹی فورس اس حوالے سے متحرک رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق صدر عارف علوی کا کلینک سیل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
ڈرون کے استعمال پر پابندی
عظمیٰ بخاری نے وضاحت کی کہ جلوسوں کی کوریج یا کسی بھی مقصد کے لیے ڈرون کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، اور اینٹی ڈرون سسٹم کا استعمال کیا جائے گا۔ دیگر اداروں سے بھی اینٹی ڈرون سسٹمز ہائر کیے جا رہے ہیں۔ بجلی کے لٹکتے تاروں کو ہنگامی بنیادوں پر درست کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مجالس کے دوران بجلی کی بندش بالکل نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی وینزویلا نے امریکہ کا تیل چرایا؟
مکمل نگرانی
تمام بڑے شہروں میں کنٹرول رومز قائم کر دیئے گئے ہیں جو اپنی فعالیت کا آغاز کر چکے ہیں۔ وال چاکنگ اور نفرت انگیز بینرز کی مکمل ممانعت ہوگی۔ پنجاب کے 18 شہروں میں سیف سٹی کیمروں سے جلوسوں کی نگرانی کی جائے گی، جبکہ جلوسوں کے روٹس پر اضافی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔ تمام اضلاع کی انتظامیہ آج اپنی فرضی مشقیں مکمل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹ کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں،ناانصافی پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں،سپریم کورٹ کے صنم جاوید کی بریت فیصلے کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل پرریمارکس
عزاداروں کی سہولت
عظمیٰ بخاری نے مزید بتایا کہ عزاداروں کے لیے ٹھنڈے پانی اور مشروبات کے کیمپ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر لگائے جائیں گے، جبکہ سبیلیں رجسٹرڈ ہوں گی اور ان کے معیار کی نگرانی فوڈ ڈیپارٹمنٹ کرے گا۔ واسا کے ٹینکرز سڑکوں پر چھڑکاؤ کریں گے اور کلینک آن وہیلز جلوسوں کے ہمراہ موجود ہوں گے۔ ٹریفک مینجمنٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لکھپتی گداگر گرفتار، تعلق کس شہر سے ہے اور بیگ سے کتنی رقم ملی ۔۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
سیکیورٹی کی نگرانی
ضلعی انتظامیہ جلوسوں سے 24 گھنٹے قبل ٹریفک ایڈوائزری جاری کرے گی، اور 29 تاریخ سے قبل تمام افسران اپنی پوزیشنز سنبھال لیں گے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ رینجرز اور فوج کو بھی محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے چند سلیپنگ سیلز کو پہلے ہی حراست میں لے لیا ہے اور دیگر خطرات پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
موبائل سروس کی ممکنہ بندش
انہوں نے کہا کہ موبائل فون سروس کی بندش اور ڈبل سواری پر پابندی کا فیصلہ وقت آنے پر حالات کے مطابق کیا جائے گا۔








