شوریٰ سے منظوری کے بعد آئی اے ای اے سے معاہدہ معطلی پر عمل ہم پر لازم ہے: ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی معطلی کا بل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: اقدام قتل کے مقدمے میں مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم قطر سے گرفتار
معاہدے کی معطلی کا اثر
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، عباس عراقچی نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ہمارا تعلق اور تعاون ایک نئی شکل اختیار کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے صدر کے اغوا اور ان پر غیر قانونی مقدمہ کے بعد دنیا میں ایک بار پھر نو آبادیاتی نظام کو عملی طور پر مسلط کیا جارہا ہے، حافظ نعیم الرحمان
قانونی پابندی اور نفاذ
انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدے کی معطلی کابل شوریٰ نگہبان سے منظوری کے بعد ہم پر لازم ہوگیا، ہم اس بل کے پابند ہیں اور اس کے نفاذ میں کوئی شک نہیں ہے۔
پارلیمانی بل کی توثیق
واضح رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد گزشتہ روز ایرانی شوریٰ نگہبان (Guardian Council) نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایران کے تعاون کو معطل کرنے کے پارلیمانی بل کی توثیق کردی تھی。








