جو محبت بانٹتا ہے، وہی سکون پاتا ہے۔
محبت کا پیغام
تحریر: خالد غورغشتی
روایتوں میں ہے کہ اللہ عزوجل بندوں پر اس قدر مہرباں ہے کہ وہ 70 ماؤں سے بڑھ کر انسان سے پیار کرتا ہے، ایک ممتا کا پیار اس قدر ہوتا ہے کہ بندہ ساری عمر اس کے گن گائے تو کم ہے۔ یہ محبت ہی ہے؛ جس کے لیے اس جہان کو تخلیق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں روسی جوڑے کا قتل، لاشوں کے ٹکڑے کہاں سے ملے ؟ جان کر روح کانپ اٹھے
محبت کا اعلیٰ مقام
آپ تخلیق انسانی کے باب میں محبت کو فراموش نہیں کر سکتے۔ اصولاً کائنات کا ذرہ ذرہ محبتوں کا شیدائی ہے، نفرتوں سے تو شیطان مردود بھی پناہ مانگے اور ہم انسانوں سے نفرت کر کے اپنے منصبِ خلافت کی پامالی کرتے چلے جا رہے ہیں۔
یہ محبت ہی ہے؛ جس کے بَل بوتے پر انسان نے ہمیشہ اُونچی اڑان بھری ہے، بلندیوں سے ہمکنار ہوا ہے، کامیابیوں کے تمغے سمیٹے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علامتیں اور شناختیں بچپن سے ہی آپ کو لاحق ہو جاتی ہیں، آپ کبھی بھی دور نہیں کر سکتے، انہیں محض معمولاتِ زندگی کی حیثیت سے قبول کر لیا جاتا ہے.
زندگی کی قیمتی لمحے
ہماری زندگی کے شب و روز بڑے قیمتی ہیں، ان کو نفرتوں کی بھینٹ چڑھا کر اپنے قیمتی وجود کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اس دھرتی پر ہر رنگ، نسل، خاندان، قبیلے، مسلک، تنظیم، جماعت اور مذہب کے لوگ بستے ہیں۔ لیکن آج ہم سب کو ایک ہی رنگ و ڈھنگ پر تولنے کے عادی ہو چکے ہیں، ہر معاملے میں نفرت ہی کیوں رہ گئی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او اجلاس: کیا پاکستان نے ‘سفارتی تنہائی’ کا تاثر ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی؟
نفرت کا زہر
انسان فانی نہیں، کائنات فانی ہے؛ محبت فانی نہیں، نفرت فانی ہے۔ اس لیے نفرتیں کر کے خود کو سزا کا موجب نہ بنائیں۔ نفرتیں پیدا کرنے والے آپ کو ہزاروں لوگ مل جائیں گے جو مختلف حیلے بہانوں سے آپ کے رِشتوں میں دراڑیں ڈال کر خود بھی بے چین رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جیمی سمتھ نے پاکستان کے خلاف شاندار فتح حاصل کی
تربیت کا اہم کردار
آج بہترین رہائش، اعلیٰ سہولیات کے باوجود سب مضطرب اور مختلف بیماریوں کا شکار کیوں ہیں؟ دراصل سیانے کہتے ہیں جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ ہم نے نسل در نسل بغض، کینے اور حسد کی فصلیں بوئیں اور آج نفرتوں کے پھل کھا رہے ہیں۔ ہمیں غور و فکر کرنی چاہیے کہ ہم نے اپنی نسلوں کو کیا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی سندھ کا 15 مئی کو صوبہ بھر میں اظہار تشکر ریلیاں نکالنے کا اعلان
خاندانی اور معاشرتی اختلافات
ہمارے معاشرتی تباہی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی کا درجہ دے دیا ہے۔ جو ہم سے متفق نہ ہو، وہ ہمیں دشمن دکھائی دیتا ہے۔ مگر قرآن اور سیرتِ نبویﷺ کا مطالعہ ہمیں رواداری اور برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرغی کے گوشت کی قیمت مزید نیچے آ گئی
محبت کا معاشرتی اثر
زندگی کا حسن اُس وقت نِکھرتا ہے، جب انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ جو دل محبت بانٹتا ہے؛ وہی دل سکون پاتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ، گفتگو اور عمل سے محبت کو فروغ دینا ہو گا۔
پہلا قدم محبت کی جانب
دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیں پہلے اپنا دل بدلنا ہوگا اور وہ دل محبت سے ہی بدلے گا۔ محبت ہی وہ واحد خزانہ ہے؛ جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








