ڈی جی آئی ایس پی آر کی بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات یا پس پردہ رابطوں کی تردید
ڈجی آئی ایس پی آر کا بیان
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات یا پس پردہ رابطوں کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: کرم کے حاجی عقیل، جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ‘مسیحا خاندان’ کا دیا ساتھ
فوج اور سیاسی جماعتوں کا تعلق
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فوج سیاسی جماعتوں سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، یہ سیاستدانوں کا کام ہے کہ وہ آپس میں بات کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج کو برائے مہربانی سیاست میں ملوث نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے رکن قومی اسمبلی چوہدری نصیر احمد عباس اور مسلم لیگ (ن) جاپان کے صدر ملک نور اعوان کی ملاقات
ریاست کے ساتھ بات چیت
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی ریاست سے بات کرتے ہیں، جو بھی حکومت ہوتی ہے وہی اس وقت کی ریاست ہوتی ہے، اور افواج پاکستان اس ریاست کے تحت کام کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل شارجہ اور تھائی پاکستان چیمبر آف کامرس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، معاہدہ تینوں ممالک کے کاروباری طبقوں کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا، عبدالغفار
فوج کی اتحاد اور حکام کی تبعیت
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ ہم اندرونی و قومی سطح پر چٹان کی طرح متحد ہیں۔ فوج وفاقی و صوبائی حکومت کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، فوج عوامی تحفظ کیلئے آتی ہے۔
فوج کی تعیناتی کے فیصلے
فوج خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں صوبائی احکامات پر تعینات ہے، اور فوج کی تعیناتی کا فیصلہ سیاسی قیادت کرتی ہے۔








