مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ، کچھ دیر میں سنایا جائے گا
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ہوگیا۔ سپریم کورٹ آئینی بینچ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 میں بانی پی ٹی آئی کی اپیل مقرر ہوتی نظر نہیں آتی؛ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم بیان
کیس کی سماعت
ڈان کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے۔ 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ کی تشکیل پر اسرائیل کا مؤقف آ گیا
بینچ کے ارکان
آئینی بینچ میں شامل ججز میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمگیر نظام ناکام ہو چکا، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل طاقتور ممالک کے دباؤ کے باعث مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں : حافط نعیم الرحمان
بینچ سے الگ ہونے کا فیصلہ
کیس کے آغاز میں ہی جسٹس صلاح الدین پنوار نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے گزشتہ روز بینچ پر اعتراض اٹھایا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور کے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کی مارچ سے تعمیر شروع کرنے کا اعلان کر دیا
وکیل حامد خان کی بات چیت
وکیل حامد خان نے کہا کہ انہوں نے جسٹس صلاح الدین پنہور کے اقدام کو سراہا، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ کوئی سراہنے والا معاملہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل دہشتگرد گرفتار کرلیا: سی ٹی ڈی بلوچستان
ججز اور وکلا کے مابین بات چیت
جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان کو بات کرنے کی اجازت دی، تاہم اس پر بحث جاری رہی اور انہوں نے کہا کہ آپ کو الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عمر اور سرجریز پر بیان بازی: فہد مصطفی کے طنزیہ جواب کے بعد عتیقہ اوڈھو کی وضاحت
نئی شمولیت کے قوانین
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن نے ہماری یا ہائیکورٹ سے کوئی درخواست کی کہ ہمیں سیٹ دیں؟
یہ بھی پڑھیں: بھکر میں فائرنگ سے پیپلزپارٹی کی خاتون رہنما سمیت 3 افراد قتل
عدالت کی طرف سے ریمارکس
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ 13 ججز نے متفقہ کہا کہ مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم نے دھونی کا اہم ترین ریکارڈ توڑ دیا
نظرثانی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ
بعد ازاں، عدالت نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورتحال پر قرارداد متفقہ طور پر منظور
کیس کا پس منظر
6 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنایا ہے: ایران کا دعویٰ
الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تفصیلات
4 مارچ کو الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
پاکستان تحریک انصاف کا موقف
پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو 'غیر آئینی' قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔








