مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ، کچھ دیر میں سنایا جائے گا
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ہوگیا۔ سپریم کورٹ آئینی بینچ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نیوز کانفرنس کا مقصد دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
کیس کی سماعت
ڈان کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے۔ 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا ملکی حالات کے پیش نظر ساتھ چلنے پر اتفاق
بینچ کے ارکان
آئینی بینچ میں شامل ججز میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ پنجاب میں 55 کروڑ کے خفیہ فنڈ میں بے ضابطگیاں
بینچ سے الگ ہونے کا فیصلہ
کیس کے آغاز میں ہی جسٹس صلاح الدین پنوار نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے گزشتہ روز بینچ پر اعتراض اٹھایا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کو انویسٹمنٹ پر 55 لاکھ فیصد سے زیادہ منافع دینے والے وارن بفیٹ، یہ سب کیسے کیا؟
وکیل حامد خان کی بات چیت
وکیل حامد خان نے کہا کہ انہوں نے جسٹس صلاح الدین پنہور کے اقدام کو سراہا، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ کوئی سراہنے والا معاملہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انتظامی مسائل کے باعث 3 پروازیں منسوخ، 17 تاخیر کا شکار
ججز اور وکلا کے مابین بات چیت
جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان کو بات کرنے کی اجازت دی، تاہم اس پر بحث جاری رہی اور انہوں نے کہا کہ آپ کو الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جو بھی بنا اجازت حج پر گیا تو اسے ۔۔۔ امارات نے سخت ترین حکم جاری کر دیا
نئی شمولیت کے قوانین
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن نے ہماری یا ہائیکورٹ سے کوئی درخواست کی کہ ہمیں سیٹ دیں؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی وفد کی فرانسیسی مندوب سے ملاقات، بھارتی جارحیت کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے آگاہ کیا
عدالت کی طرف سے ریمارکس
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ 13 ججز نے متفقہ کہا کہ مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی اور انوشکا شرما کونسا پانی پیتے ہیں؟ قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے.
نظرثانی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ
بعد ازاں، عدالت نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب میں شدید دھند اور سموگ کا راج، موٹر ویز مختلف مقامات سے بند
کیس کا پس منظر
6 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی ’’ آف کلر ‘‘نظر آئے
الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تفصیلات
4 مارچ کو الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
پاکستان تحریک انصاف کا موقف
پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو 'غیر آئینی' قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔








