مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ، کچھ دیر میں سنایا جائے گا
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ہوگیا۔ سپریم کورٹ آئینی بینچ کچھ دیر میں مختصر فیصلہ سنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے بڑی خبر، ہر صارف خود بل بنوا سکے گا، اویس لغاری نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنادی۔
کیس کی سماعت
ڈان کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے۔ 11 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایسا ہوا تو بل گیٹس دیوالیہ ہوجائیں گے، ایلون مسک کی بڑی پیشگوئی
بینچ کے ارکان
آئینی بینچ میں شامل ججز میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل سے مجیب الرحمان شامی اور حفیظ اللہ نیازی کی اہم ملاقات
بینچ سے الگ ہونے کا فیصلہ
کیس کے آغاز میں ہی جسٹس صلاح الدین پنوار نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل حامد خان نے گزشتہ روز بینچ پر اعتراض اٹھایا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے ہر نازک وقت میں پاکستان کا چٹان کی مانند ساتھ دیا: احسن اقبال
وکیل حامد خان کی بات چیت
وکیل حامد خان نے کہا کہ انہوں نے جسٹس صلاح الدین پنہور کے اقدام کو سراہا، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ کوئی سراہنے والا معاملہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا
ججز اور وکلا کے مابین بات چیت
جسٹس جمال مندوخیل نے حامد خان کو بات کرنے کی اجازت دی، تاہم اس پر بحث جاری رہی اور انہوں نے کہا کہ آپ کو الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا دائرہ کار مزید شعبوں تک بڑھانے کا فیصلہ
نئی شمولیت کے قوانین
جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا نوٹیفکیشن کے بعد الیکشن کمیشن نے ہماری یا ہائیکورٹ سے کوئی درخواست کی کہ ہمیں سیٹ دیں؟
یہ بھی پڑھیں: والدہ کی شادی کا رنج، سوتیلے باپ کو قتل کرنے والے دونوں بیٹے گرفتار
عدالت کی طرف سے ریمارکس
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ 13 ججز نے متفقہ کہا کہ مخصوص نشستوں پر سنی اتحاد کونسل کا حق نہیں بنتا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی صورتحال، فلائٹ آپریشن اپریل کے پہلے روز بھی بری طرح متاثر
نظرثانی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ
بعد ازاں، عدالت نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا دورہ ہنگری، بڈاپیسٹ میں سوئٹزرلینڈ، یورپی یونین اور انٹرنیشنل مائیگریشن آرگنائزیشن کے وزراء و سربراہان سے ملاقاتیں
کیس کا پس منظر
6 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قانون ہر کسی کو ہر فون ٹیپ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، سپریم کورٹ آئینی بنچ کے ریمارکس
الیکشن کمیشن کے فیصلے کی تفصیلات
4 مارچ کو الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
پاکستان تحریک انصاف کا موقف
پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو 'غیر آئینی' قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔








